Skip to main content

Full text of "Tanweerul Absaar By Raees Akhtar Misbahi"

See other formats


: یی یت ا 


97 م0 اسْتَجبْ لَلَر (من:٠٥)‏ 
) تجھوارے رب نے فرمایا:یھ سے دع روہ 
ٹیس تار ےکی میں اے تول اون ٤۔)‏ 


اعادیرٹ ہو ٹل وا رددمائو ں کا من رتھوے 
ُ۴ بنا 


و 
کال ثا مس 
نپسویر بصار 
الأدعیة الواردة ئي الأحادیث والآثار 


"طڑھوط ۲ں : >-حح سط 
رس سو تح ہت دری مصبای 


سے ہے یس 
2 


تو اڑالصار )۲( 


ام فا تخویالاہصار ثٰالادعیۃ الو اردۃنٰ الاحادیٹدا(آخار 

موَاْف: مھ ریس اخ زتقادری مصہا 85 

نظ شا ی: استاذی الک ریم اویب اسلا منرت مولہ ناف ات مصباتی مالعا ی 
امتادجامعہ اشرفی؛مبارک کو دہاشم مک ڑھ(ل ي.) 

نوزم: سراجالفق ارت علاممفقی مر نظام الم دن رضوبی مصباتی رظ لہ العالی 
صررا یر ر×ن وصر رشجِ افتاجام اف ؛ مارک ار ؛ 1و 

ر2 حتز مگ رای حضرت حافظ شا :بین رضا قادری ایی سیادہ ضجن خانقاہ 
قادریہ الوہبہ ؛رضاگر ؛ رانک اش گر ٭ل.لی۔ 

کپوننگ:- پیائیکہیوٹرکرائس مارک پ رہ اض مکڑ۔ 


صصات: ۸۸ 


ملنے ھایپتے : 
امس برکات :مع اشرفیہء مبارک پر 
5 ا 

٣‏ رضو یکا بگع یاشلء دٹی 
”۰ تب حافظا حاتء مارک اور 


تو اڑالصار 
بر ستکئ او 
عرش عال سے ...بط 


(ا)-7 ام نم زاے اجتاب چس سسجت 
(۴)۔ لو کال او رتضورقلب شس سج ش شتت 
(٣)زاٌلاادالارپاڑے‏ تسس 
آرابِ رما نر نا سرت 

(۱)-طہارت ووضو کر سر مر رک کے ا ا ا 
(۲)۔استتی ل بل سے ےد سید سھ 
(٣٣)-دونوں‏ پا تجھ اٹھانا ا شی سس رض سض مہ 


( )سا ٹھا ےکیکیفیت رو میں مم رو کا ا شا 


رف 


شع ارالصار 


(ھ)-7روّااورورود شر ینٹکے دعاگی اتا کی 
() لو وافرارگناہ کی و 6 و شر رد مک ا 
ےیل اقال اورٹیک ہثرو ںکا وہلہ وا کوٹ سو ری اہ 
(۸)جائئ دہ کرنا سس سس 
(8 ےی اپنے لیے د مکی سے تہ مھ 
(٭ا)-جائ دم کرنا مس تمہت“ 
۱0)۔ گی سے ون کن لے تحت 
(۳)- دحا کلما تکوبار بار دہرانا ان تس ہت 
زس کرت ےعااننا صمح مھ نت 
)(۴)- مسفون الفائے دعاکرنا رر بی ٹہ 
(۱۵)۔مناواو شیع رک یی دعا کنا رہ 
)۱١(‏ نے صھبرب یکا منظاہ رن ہکرنا ہے یتسہ 
(ےا) لین داع تا کے سماتھ دہاکرنا جشٹٹی۸ 55 
(۱۸)-امام صرف اپنے لیے دعانکرے .-..:..ح 
(4)-محرے تاوزتکرنا ٌاص وہ سسمنڑشھ رس تی ا حر 
(۲۰)-صا اور خیک لوگوں ے دمکی در شخو اس تکرنا 7097 
(۳۱)- مو تکی دعاشکریں مس محمممجمسد 

)۲٢(‏ رونا او رآنسو انا ا ا ا ا ا یا ا کا 


(۲۳)- ابی ذات اور اپنے اٹل ومال کے خلاف بدردعائدکرنا 


تھولبت دعا کے اوقات ےت مت 
(م پت سو ول ود اید در دید گش ایک و یا 


۲) 


تو اڑالصار 


(۴) را تکی یک مو سکھڑی و سسسس ہت 
(۳)-ادیرات 1 وی ےب ا ہے ےم و ا ےم ہی دی می یک موم ہت 
(۲۶)سرا تکاآخری تما ی<ص ہے حسلسش ھت 
(۵)- رات وا ایک جا گت کے وقت یا ا 
(٦)۔ازان‏ ے وقت ےس ےس 
(ے)۔ زی مت یھی ا سی ساس سد مس کی 
(۸)۔اذان وا قامت ے ران کن ا ا یت 
()-ج بٹررییں یکم کر کا اک ات سای شر کر 
(٭ا)-پار ےت ا ری ےا ا ا و ےک وہ 
(۱)-جمععہ کے دا نکی ایک ام سکھڑی 0-07 
(۴)- جع کی رات 7 002.0009" 
(٣۴۳)ف‏ رخ نماز کے بعر سر مس جٗےمسھہ 
(۱۴۴)- اوت قرآن کے بعر سک ا کے ا ا ا ا و شش او 
( ا جس وکرمیں یر شر و ہت 
()-۶ر ڑ ےن چس جوج سیت سوچوٹھوفبجیگجو یہ 
(ےا)۔- ری کے وقت ا ٹک لے ا نے 
(۸)- مر کی پانک سن وقت سسمیِ ‏ سعسسبت 
(۱۹)-خوا فک وورکتوں کے بعر 0 
(۰۶٥)-آب‏ زم زم یئ ہوے مع مجولاسممسحنی 


مو لک نکی دھا>ہرحال قبول ہہوٹی ے ا ش7 ا 


لف او اتکی مسمون ومتبول دمائًِ 0-+- 0 


الگ 


تو اڑالصار 


افطارکرائے والو ںکوبدعارے مہ 
و نے ےتک ھا اس 


نید سے بیدرار ہونے کے وق تک دما 7 ھ+ە+ 


سدت میں ڈرجات ۓلوک یا پٹ سے یھ ہم مصسصمصس تد 
ے خوالیکی دا ےم ا سے ہے مد ےی ےت نی 


20 9 - ءھ۸“ 0[ 
ببیت الفلاے پاہ رلک نکی دعا وہر 
گھرے لک یوکرا ما یڑ ے؟ کے 
گھرییں داقل ہولوکیاپڑ ۓ؟ کا مت 
زین داح ین لاوما لو توای ‏ ھا تل 


پازالنٹل 02.02 ایک اوردعا یں ےس مہ 


پان ہ وو پڑ سے نہر لشوس س سمسہ 
پاش کی وج سے تا نکاخوف وتوہ دھاپڑ سے 
این 9نو دعاپڑے :‌ت“*"" 
تاروٹوٹمادیک ےوک پڑ سے ؟ ٦تس‏ سس سس 


گر ج او کیرک کے وش کی ما 0-2 
ا چان دلرکریدعاپڑے ھممکسمٌ 


شب ٹرر دیما ا اوک وو ایک واج وچ مو وی یو و وو رھ وی وی وا و کاو ماع و جج و دو ڈیا 


تو اڑالصار 


ینہ وین کے وق تک دعا جہہ ک5 
لاس نت وق تی دعا سس مس چم مت 


پا کے کے وق کی دعا رر ےت 
پا ارنے کے وقق کی دعا نیھ مم 


پر یجان اور مصیبت ے نحجا تک دعائیں سے ےر ای کی ا کت 


وت تنا تک زا ری ےم ٹر 


سے جات پان اورقوت گل 87+001 


خوفِ شیطائن دوک نکی دما ےت ارک کے رڈ ےد کت ا 


گبلوت پبرلیوں سے شا تکا مل ٹون وٹ 


و خی سے سک دو اف ا ہے ہے ماج مت ات 


پاب بندہہرنے اوھ ر؟ یکعاان 2۳ 


مھ وک ےکیائے ہو کاعطارح .سس سس سی 


دررلدما 00-0 


بخاراور دنام لے جات پان ےکی دعا پیا 
پاریق ٤ے‏ جات یا ےی رما ا 


۷ 
"۷۰۳ 
"۷۰۳ 
۷ 
۵ 
۵ 
٣۵‏ 
۰ 
۰2 
۰ 
ے٦‏ 
۸ 
۸ 
۹ 
۹ 
۹ 
ہے 
ہے 
اك 
٢ھ‏ 
۲ے 


۲ے 


(ے( 


تو اڑالصار 


چھوڑے اور زت کی دعا مد ا ا می ار ما مار یر ار مر دی 


ناندے برای ںکاعلا وی ہت 
7و در جا تکا وہ کی ا ا 


مصیببت کے خطرے کے وق تکما پڑت اججاۓے ملاس سح 
کس یکاخوف ہ نوم دعاپڑ سے 00,00088 
رود رن ےکاوظفہ کاسس ات ا مور کہ 


برک چچزدک کی دھاپڑے ہی تح مہ 


شدہیامفرورکی بازیال یی دا ےت 


رک یآواز ۓلویاپد عۓ؟ غر ‏ ر غ ما ہم لمت مت یت 


کے کے بھوگکے کے وقشتکیا پڑت ؟ -- 


جما کے وق تک دعا .سح نت 


اعت تا 001ا 
گمزشت منصب پر بھال ہو نک دعا 0 


جب نجس ےکا رہوج ائ سور دھاپڑ سے 70 
جب می تکوفریں اتارے خر یت ا تہ ا ار کا 


جب فبرستان جا ۓےلوکیا کے ؟ ےس سس سس چھسیٹت 


"۱ے 
"۱ے 
7ے 
٣ے‏ 
"٣ے‏ 
"ے 
۵ے 
۵ے 
٦ے‏ 
٦ے‏ 
٦ے‏ 
ےے 
ےے 
ےے 
۸ے 
۸ے 
۸ے 
۹ے 
۹ے 
۹ے 
۸ 
۸۱ 


تو اڑالصار 


دا ۓ تر ۱ ےی ما ا ا ا ےا ہم 


ال کے بٹرول ے پروطلب کا لاس مہ شر امھ سی کت سن 


کوشا م) ھی جانے والی دعائیں بر ار ا سیر مت سسمت ام 
و کن ددنیائٹشس و کے لے لف دعاًں ہہ نہ فمسٹت 


بد بد بد بد 


(۹) 


تو اڑالصار (٢)‏ 


عم رص عال 


بسمالٹه الرحمن الرحیم 
حامداو مصلیاومسلما 
حجامعہ اشرفیہ؛ مارک پور ؛ انل مکڑھ کے طلبہکی ىہ تصوعییت ربا ےک دہ ایق دستار 
اق کک تی کرت ات ہے کا ات کن تی کت ا2 
کرت ہیں ؛ اس لیے مر یبھی خوائنل ہہوٹ یکم ابیقی دستار بنددی کے موشح سےکوکی ای کاب 
تیب دوں مس کافامر:عام ہو_ 
مس نے دکچھاکہ مارکیٹ میس ارد زبان یش دعاؤ کی جھکتائیں داب ہیں ان مل 
سے اکنروڈیٹل تر نے حوالہ اور دھا کے فضائل ١‏ ش رئا وآداب سے نالی ٹویں ١‏ ہاش شع ریا ذبان یل 
دا لکی پکتائیں ایی ضرور ہیں لین عوام ان سے استتفاد ہنی ںک کت ؛ ما علامہ جزدیی علیہ 
ا رعندک یکتاب ” 1 اور علامہ نووگی علیہ الرحمدک یکتاب ” الاذکار “۔ اس لے میں 
نے می جاک ایک ام یکتتاب تر تیب دک ججاۓے جوم کورہ الا تصوصیا تک حائل ۶۶ پالاخ ال کا 
نام لےکمریشں نے میکام شرو م]کردیااور صقن دہکتاہوں کے ہوانے سے مختلف موا عکی نون 
دعھائیں ٭ دعائوں کے فضائل وآداب ١‏ شرائیط اور منقامات تجولی تکو ا سکاب میں مک ردیا۔ انس 
زا بکی درج ذیل ضحموصیات ہیں : 
00 متعمیل کے سات کراب وسنتکی روش بس دھاکے فضائل ١‏ آداب * شرائیا اور 


تو اابصار )۷( 


قبولیت کے اوتقات دمقامات بیال نگمردپے گے ہیں- 

نب صحاب ستاور دن رکب عدیث سے دعاو کا اشقا بکیاگیاے- 

ق تما مآیات واحادی کی تر ء باب ؛ جلدہ صفیات وخیرہ کے سا تق دک یکئی سے۔ 

کتاب آپ کے پاکھوں میں سے٤‏ انسان خطا ونسیان کا تا ے ؛ انیل ےگرام اور 
رشان عظام کے علادہ سب سے خطاکاامکان ے ء مین چم یہ صر ف نظ اور غلطوںکی 
مناسب انداز یل نشائن دی ار باب اغلائص وشراف تکا شوہ ے_ 

جھے اس بات پر بے علخ وی سے مہ ےکام حافظا علتء استاذ ال علمہاء علامہ اہ ہر الحزیز 
حرث ھراوآبادکی علیہ الرحمن والرضوان کے آاۓ ہو من حامعہ اششرفیہ * مارک پر ٹل 
کیل آخزاہواجوخوونقبیری مزاج رکھتے تے اور اپنے قول ول ےبھی ا سک ینغ ف رات جے 
ور مر نکر رو وت جا اس رع میں ب کھتنا ہہو ںکمہ ا ام ٹیل ال کا 
روعا فی لعل طوز پر شال دکارفریاے۔ 

لوم رای ان ممئل ریہ راج الف ا تحت ما رین شج نظام الرین رضوی 
مصبائق مر ظلہ العالی صدرالیر ر جن وصر رشع افا ہام اف صبااک لرنے اپنے میتی اور 
مروف تین اوقجات سے چححدوقت ابا لک رایک مفید اویعلوداکی مقر جج ری ف راکنا کی حوصلہ 
افزال یکاساما نگیا- 

اور استاذگررائی اویب اسلام حظرت موزانا لس اضر مصباتی پر لہ العای تاذ چامعہ 
اشرفیہ نے کشرت مصروفیت اور ازدھا کا ر کے باجود خہابیت ہااریک فی کے سا تج پور یکتاب 
00" 

حظرت مواان ضز حین فی مصبائی استاذ جامعہ اشرفیہ و این النکتبہ امام ام رضا 
لان ری نے موضوع ےمتحا یکتابو ںکی ف راپ یکر کے از کم فرایا۔ 

یس د لکی اتھا ہگ رائچوں سے اپنے ان تمارک رم فخرماا ان کرا مكکاشک رکز رہویں۔ 

بڑیی ناسای ہو اراس موٹح پہنضرت حافظ شا مین رض تقادری سیادہ نشین خانقاہ 


تو الابصار رھگ 
لیب قادربےءرضاگ برای کش یگ رکا خرن کروں۔ موصوف بی اہ ںکتا بکی تیب کے 
ترک بن اورپ را سکی طباعح تکاہنڑ ہنی اٹھایا- 
ٹس جناب ماسٹ رم تاب پیائی اور مولان شم انوار مصباگی صاحہان کابھی عمنون و مقلور 
ہوں جضسوں نے بڑیی عحنت ١‏ عرقی ربزکی اور احسال ذمددارکی سے ال کا بک یکیو زی کی 
صولازاعپدالپاریی مصسباتی ءسہیتا نی اور مولا ناش عاقب مصبائ یگثرات صاح ان اور دم رکرم 
فباوں ن بھی خقلف مرائل میں مبری دس تکیر کی ۔ بی ان رات کابھی تل سے ریہ 


اداکرتاہوں- 
ال تعالی سے دعا ےکہ الع خمام ضرا کو ا سکی جزاے خی رعطاف رما اور دا ری نکی 
سعاداوں ےس رش رازم ماہۓے۔- 
اا/ ماد الاو ٰیء۱۳۳۷۹۰ھ رذ نوز فعیائ 
۳ ار۲۰۱۵۰ء روف ور 


پروزسےرشہ لع ردی: لوی_۔ 


تو اڑالصار ۳( 


سر 2 
ازہجخقی مسمائل جدریدہ سرن الفقہاحخرت عاملأی حر نظام المدرین ضوکی مصباتی مل العالی 
صررالرر جن وصر رشع>افاچام ںاشف مارک پر- 


دعانام سے خداے سبوں قد و لک بارگاہ ش عرص عاجا ت کا۔ عرش عاجات بندہ 
اپ الفاطا می سبھ یک رسکتا سے اور علماوصاین کے الفاظ مھ بھی ہ بندہ اپے الفاظ یش حاجتوں 
کے لیے اپنے ر بک بارگاہ می سکڑاکڑا ۓ لوبھی اداد عزوچل اسے شرف قبول عطافرماتا سے ؛ ٠‏ 
الک بات ےکہ شرف قولیت کے ط رق جداہوں کے ہ بندہ مہ چابتا ےک ال سک ہردعادیای 
می پپری ہوہ لین خد ےلیم وخ کے علم میس اس کے لیے اتی ہوتا ہ ےک ال کیا دعانؤں 
کیاصلہ ا ےآخرت یں نے ہ الد نتحاٹی ا افخرت یل عطافرما گا بنرے کےکاممات میں 
اش یدنگ زان کے من او رک زین ذارکی اع نین ات کا اع ہہت میں او ال کے 
نت نف وی اولیا او ززفنا ئن کا کی الال نوچ لکی پا کاو ین موب وت کان اپ 
لیے اانع کے مات دعا اگ ر الف بے خیانہکی بارگاہ یل دعا کے طور پیر پیٹ سے جائیس تا نکی 
ولب تکی امیر زیادہ ہوثی ے الع ز دج لکواپناظام بہت بھی زیادہنحیوب سے اور اٹنے محبوب 
سیدرالانیاغام ا ہین اون کےکلما تتوہبہت بی زیادہمحوب ہیں اس ےا رکتاب وسنتکی 
دعائیس الل دع زدئ لکی بارگاہ ٹیل عرش حاجات کے طور پر نڑھی ای ں تو وو ضرور مقبول ہوں 
گی یھی وج ےکہ روز امت جب مام اولین وآ خرن اولیاو مق بین عال نس یشسی میں ہوں 
کے اور سرکیار ای قرار علیہ الین والا با رگا ہبی میس شفاعت کے لے مجبدد ربز ہوں کے وا 
ترک و تھا یآ پکوکلمات جح سکھا ےگا ؛ پچ رآپ اپننے ر بک امیا حم کریسی گ ےک وی جمرنہ 


تو ياابصار ۲'۸( 


آپ نے یی ہکی گی نہ ا دی کر کے ال تی راشی ہوک رآ پکی دعاقبول فرما ت گا 
ال ٹہیرے بی تقیقت الم نشرں ہو ای ےکم بندہ اپنے یادوسرے بندول کےکلمات 
7 280ج مو مکی 71 سے زیادداجابت وتبولی تک امیا وفقت ے جب ہترہ 
کتتاب وس تکی دعاؤوں سے عرٴ حاجال تکرے ؛ سن یے اوگی ال کی ےک پارگادابی ین 
نون اور مان رکممات دھا کے سماتھ دعاکی جا ؛ اس م وضو پپرعلما بھی بج رام کے ٹیں نمی 
کین جن سے بہت مشہور ےگ رعوام الناس اس سے استتفادہ نہیں 7 ا 
صرورت ین آکاںاروناواان مسفون دھاو لکااہی ک چون مرج بکیاجاے ‏ ال دعمز وت لکا 2- 
2 کہ انس ضرور تکوہرارے عمزیزسعیر مولانا مہرم اختزسسلمہ ابد اہی نے مس و ںکمیااور اس 
موضو پپرایک جائ اور ببہت بی مغی کاب رت بکمردئی ۔کتا بکانام ”ن تو الابصار فی الادعیتۃ 
ار دی الاحادیث والنتار کے جو اعم پا کے او رکتاب کے م ولف دمیاے ائل سن تکی مشہور 
ون کاہ حا معہاتشرفیہ مہارک اد کے در جت فضیلت کے (النن فالی طالم بتکم ہیں ءع رز موصوفہ 
حقرت موزان فیس ار مصبا گی صادب کے فرزندار جمند ہیں ء انھوں نے حامعہ اشرفیہ یں در جے 
اولی بیس داخلہ لیا او رآٹھ سا لک انل ور توق کا بات الیم کے مطابق اپنے 
سمل ہتھلی مک یی لکررے ہیںء اتی نے ایس ذہانت وفطانت کے ساتد وق تک قدرشنائی 
ار جدروج ہد یت تر عطاف رای ے؛ جج سگک ٹیش وس ہہ ملاکہ ہرسالل اپنے ددجہ یل ای کب رپر 
آ نے کے ساتھ جا معہی لبھی او لآتے ہیں یعلم دین صرف لی نہیں ہوتاء وڈ یبھی ہوا سے بمگر 
زیادد تر عیبر بانٰی سے بی لوک را ز ہد بین جواغلا ٹن تو جہر نک نے خوگر 
ہے یں۔ 
نے پیل کنا بک فہرست پرایک نظ ڈالی اور ابقی معروفیات کے باحح تکتاب 
کا مطالعہ نی ںکر کاء لیان جامعہ اشرفیہ کے ج یل النقرر استاذ حضرت مولانالفییس ام مصبائی 
ضاخيبنے ار یکتاب کا اتور مطالعہ فرمالیا سے می ان پر ا ماد ے) ا نکی نظرعلوم 
ومعارف کے میران میں وی کی ہے اود وف بھی 2 خداے پاک انی ذ مین شاب 7 


تو ياابصار )۵) 


صاب سے نوازاے۔ ا لیے بی ب تا ہو یکم ہکتاب اعادبیث نہوم ہکا دعائولی سے مین 
ارافلاط سے پاک سے ١‏ ہم ول چوک سے محفو ظط خہیں ہی ںگ کن حودکک اصلا نک یکیشش 
سے 
دھا ےکہ خدا ےکر ا سکاب کےلنمغکوجام وجام فراۓ ء خقی خراااسں سے شحوب 
ات ات اف کا ا 2 دوسرے کاموںکی مزی ہنی عطاظریاے اور آنجیں 
دارین یش ا کی مب جزاعطاغرماۓ اود اس بے ما ہگن گا رکوبھی اپنے رضسوان وخمفران سے 
لوازے_ 
آمیں بجاہ حبیبه سید المرسیلن عليه وعلی آله وصحبہ وازواجە 
الصلاة والتسلیم۔ 
(م خی ) مج مظام الم رین رضوی 
صررالرر ین وصرر شع >اٹتا 
جامعراشرفیہ + مارک اپ رآ مگڑھ 
۳/ مع ادالاوٰی ١۱۳۳ھ‏ 
مطال ۳۴/ مار ۲۰۱۵ء 


شی اڑالصار 


اب او 


دھاکی فضلت واہمہت 
٠‏ تیولیت دعاکی شرٹیس 
٠‏ آواب دما 


٠‏ تولبت دعاکے اونفات 


تو ياالصار (ےا) 


دم 


انسالن دنیوکی خوش عالی ادرمادکی تز یی ہنا پر خواداپنے رب سےکتناچھی دورہہوجاے اور 
مفلت ونسان کے سکقنے بی دہیز پردوں میس دب جا ۓگ ر مصاب وآلام کے بجوم میں بے 
ساخنتہ دھا کے لے اس کے پاش عم و اید تھی بک بارگاہ ٹس ات ہیں ٭ اس ل کہ دٹیاکا 
ہرانسمان اتی ز گی کے ہ رمچھوٹے بڑے معا لے میس الد تھی ھ یکا اع سے اور یہ نش رد اتی 
الک فطرت بیس داٹل سے ہریزسے بے نیز فی ہوناصرف اود تال یی کی مخت سے جو 
اعدوصم او رق وقومے رآ نکر میس ار شاد لی ے: 

”اھ الكاس انہو الَفََراء إِل الله “و الد هو الْعقُالِْیْلُ “_ 

).٠١ (سورۃفاطر:آیت‎ 

(اےلوگو! تم اش تھالی کے ماع ہواور اید ہی بے نیاز * ال لحریف ے۔) 

ا لیے مقب رو ماج بنر ےکا فرئ ےک دہ ایقی ضرورت وحاجت کے لیے صرف 
الد ای ب یکو پیارے اور ای سے فریاددال کم رے۔ب یو ںکہ یہ دعاوفریا وھ ایک عبات ے- 


دعاش رن مین 
قرآ نکریم میں مختلف مقامات پر مختلف اندازمیں بندو ںکودعاکمرنے اور اپتی ضرورتوں 
کوایڈہ تعالی کے حور پیلک رن ےکا عم دماککیاے؛ اور ہہ بتا گیا ےکم جب بندہ بک سوہوکر 
عاتۃزکی کے سا تال تا کی بارگاویس عرتض حاج تکر تا ےتودو ا کی پکار سختاے ء اور اس 
کیا حاجت روا یک اے ؛ اور جولول کب رکا شا ہوک راو تھال کی بارگا سے روگردا کرت ہیں 
ا نک ٹرکا نام سے۔ 


(۸ 


تو ارالصار 


ناں چ ایک مقام پرفماتاے: 
یں ہے ۳ 32 کی کھ 7> 7 - 
٭ ال رکم ادَغَوْف استچب لثم اك الَيِیَ یسٹلیرون عن عِبادق 


7ص ص5 ےم سس کے 2 7 سے 
سيںخْلون جھنم دخربن_ ( سورة مومن: یع آیت: ٦٠۔)‏ 
(جھوارے پردردگار نے فربایا: مھ سے دعاکرو ٹیش قبو لکرو ںگاء بے میک جو لوک 


میرک عبات سے او خ شی ہیں عنقریب زلیل ہوک جم میس حائیں گے_) 
ا ںآبیت می خال قکانوات نے اشت مر علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام 
کواس خاصص شرف داع زاز سے فوازا ےکہ اسے صرف دعا اعم بھی نہیں دا بل ” اَستَجبْ 
آۓے ہراس سے تبولی تکاوعد جیا فرمایاے۔ 
اور اک دوسریی ہار شادالی ے: 
” وا رک ناو خفيَة تذل انت“ 
(سورة اعراف؛۷:آیت ٥‏ 


(اۓ رو2 کارے ارز ات ارت ات ووعرے بڑ عۓ والوں کوپٹر 


2204 
ایک اور یہ فرماتاے: 
” ا٥‏ سَالَكَ عِبَاویٰ عَِیْ فَائ قَریْب* اَجِیْبَ دَخُوَة اللَاج اذا دَعَان: 
رش دو سور ٢‏ آیت: ۱۸۲( 


٭٭ 
۰ 


کا ان اه تشد 
(اور( ا موب !)جب مھہرے ند ےآپ سے ممہرے بارے میں لیس کو 


ناد کہ )یس قرب ہوں اود پکار نے وا ل ےکی گار سنا ہوں؛ ج ب گی وہ کے پارے۔ و 


یں چا ہج ےک دہ می راع ماس او رھ پرامیان لائیل اہ دہہداایت پاگّش-) 
اور سور ول میس ایک متظام پرفریا تا : 
” امن چیپ المَضْطرً اذا دعاہ و یِف السٌُوء و يجَملکم خْلَماء اللض 
اط “للا ال کرونَ_ ) سورۂ نمل ؛ آیت : ٭٠٥)‏ 


ي2 
۶ر 


یك" ہ۹ ہ*ھكم٭ 


۱ 


ط 


تو اڑالصار )۹) 


کون سے جومجبورو ٹے می سکی پکار سخنناے جب دہ أ سے پکارے؟ اور اس سک ی نیف دور 
رتا سے ؟ او رکولع سے ج ٦ہیں‏ زی نکاخلیفہ بنا تا ےگ کیا ال کے سان ھکوکی او ربھی خداے ہ تم 
لوگ بہ تم دعیا ن]رۓ ہو_) 
رما ای اضلت اور اپھت 
دعاکی اہبیت الام بش اس ققدرسے؟ اس بات کااندازہ اس عدیث ر سول بے 
زایا جامکناے جوکہ سفن ترفرکیہ این ماج لدب ال فرد اور من رر میں نقخرت الوہر رہ 
ری ال عحنہ سے ممردئی سے نخس میس بی الم پلاٹ نے رما یاے: ” لیس شی أَكَمَ عَى 
مور ھا 
(الہ تعالی کے نزدیک دعاسے زیادہ قائل قد رکوئی نہیں ے۔) 
دیما انانکی ابی ضرور کو سے بی ء اں کے علاوہ یہ خود عپاوت گی سے ء یی کہ 
ااوداؤد تڑمگیء نمائیء ان ماجہء الاوب المفردء پان شانء مرک حاکمء مصنف این ای 
خیب منر ابمل اور ند اتمربیں عطرت نتمان بین بش ررشی اللد عنہ سے روابیت ےک 
رسول ال اشن نے ار شادفرایا:” الدعَاغهُو الْعتَادة''( وماعبادت یے۔) 
اس سےآگے ای عدیث یل ے کنہ یچ را سکی ولیل کے طور پررسول اد اٹپ نے 
برآیت طلاوت فرالی : 


ےس رو فص سے پا ے ١‏ 


سیںخلوں چتھہم ذٰخْريّنَ““_(سورۃ مومن؛ ٭ ۰ "٠‏ 
() سن ابن ماجه؛ ج: ۲ء ص: ۸٥۱۲ء‏ حدیث : ۳۸۲۹ء باب فضل الدعاء 
دارالفکر؛ بیروت 


(ء) سن الژمذیء ج: ٥‏ ص: ۹٢۲۱ء‏ حدیث : ۲۹۱۹ء باب سورۃ البقرةء ء دار 
إحیاء التراث العربی ببروت. 


تو اڑالصار )2 


(تھھدارے پروردکار نے فرمایا: مھ نے ماک رشن فو لک ن۷ سے ات 027 
میربی عبات سے اوخ مت ہیں عنقریب یل ہوک جوم میں جائیس گے۔) 

سفن این ماجہ یں حخرت ابوہربرہ ولا سے مروکی ےکر سو لالم یھی نے فربای : 

(ج خی ارش سے دھانی ںکرا اس سے دہ نارائش ہوا ہے۔) 

لوق اور خالقی کے ور میا نتو یی فرق سے --۹ء۶صی یٰ۶ 0 
لی کرت ہیں نبھی ھٹک دتے ہیں ؛ لین الد تعالی اس وقت ناراض ہوتا سے جب ال 
سے التیا ودھا ش ہگیا جاۓ ؛ اس کے سائے دست سوال تہ پییلایا جاۓ ؛ جیاکہ مکورہ پالا 


هي 


توالت دھکی شررمیں 

امش وکا رگ رای وفت بہوگی جب دعاما گے والا اس کے آداب وشرائ کو نظمر رک کر 
ا نکی لپادگی لپارکی ابد یکرے۔ا کاحال ظاہ ری اور جسمالی علا نکی رح سے ہ بھار ددا کے 
ذر بے شفا باب ای وفت ہو سکع ے جب ان شرائیا وہدایا تگا 5- ھ00 
وطبیب نے با گی ہیں + اود ان چچزوں سے رین زکرے جن سے سے کا اس نے عم دا سے ٦‏ 
شحضس دواکا ستععال بی کان نہیں ہوما_ 

بھی حال اس روعانی علا کا ے ہ قران وسش تکی دھائس باضفی دظاہرکی ہرطرح کے 
یی یی تن نز و وو نکی جک نع ڈو لکرے ا بت 
واستتعد ادگھی مرلیئل بیس موجود ہوہ پپرہیزداقیاط کے ان قمام تحاضو لک وجبھی لی رمرے ؛ جو اس 


()سنن ابن ماجە؛ج: ؛؛ ص: ١۷۸‏ حدیث : ۳۸۲۷ باب فضل الدعاء؛ 
0 2"ھ)؟ 


تو ارالصار (۲) 


زوین از رن ؛ امردھا کے آداب وش رائیکی باہندکی نکی جا ےتودعاقبول نڑیں ہوگی اپ ام 
وکا مان دما کے شمرائط با نگمرر سے ڈیں ماکمہ دعاکمرنے والا ان 1ھ اج مقر میں 
کامیاب ہو سے- 
(7)۱ام مزاے اجتاب: 
دھاکی قبولیت می سآ دب یک یکمال یکوببت دخ ےکہ ا سکاذر یج معاش علال ہو 2 
سے ؛جس کے بقیردعاکا الال بی نہیں سکتاء ترام نزاکھانے وا اکعپہ می ںببھی دعاکر ےووہ 
قول نہیں ہوٹی یسل میس حضرت ابدہر یرہ رشی الد عنہ سے مردکی ےک رسو لککرم 
ٹاک نے فرمایا: 
”اي الله ٍث لا بل الا طیبا ء وَإِیّ ال کعالّی أَعر الْمُؤْمكِینَ بجا 
أمزیه الخڑھلیں“۔“ 
(الد تحاٹی خد پک اور ہر عیب سے منڑدے ؛ اک چچزوں کے علادہ پچجہ قیول نہیں 
فرماتاء اللہ تعالی نے مم منو ںکوبھی ای پانو اعم دیاش نکاغھیو ںکودیاتھا-) 
ال تال یکانیوں کے لیےکیا عم سے؟ ددقرآ نکر میس گیوں جیا نکیاگیاے : 
” اھ الڈسل ماواین البٰتِ داعما٥اصالھا'‏ اق ما لحم لن لِم “_ 
(سورة المومنون؛ آیت ).٦٥‏ 
(اے ر سو اکھا انی ( اک اور علال )چیی اور نی کش لکردہ تم جو پچ ہچھ یکرت ہو 
اسے میں شحوب چانتاہوں-) 
اور ال ایا یکو رآ نکریم کی سور قرو میس یحم دیا: 
اھ یئن امنوا طُوَامِنْ طِيبْتِ ما ررَقُلكُو >_(سورة البقرة ء آیت ۱۷۲.) 


)0( سن الترمذیءج٥٥ء‏ ص٠:‏ ۰ء حدیث : ۲۹۸۹ء باب سورة البقرہء دارإحیاء 
التراث العربی ببروت:. 


تو ياابصار (۲٢۲)‏ 


زا م ومک نے وین اآیھھیں دی ہیں ان ٹیس سے انی( اک وعلال زی ںکعاک) 
ان یا تک حادت کے بع یکر ڈ لان ےک مال ورگ 
” ثُمٌ دََر الرَجُلَ یِطِیل الكَتر اَم شْعت أَعْبر يد دی لی المَعاء 

يا ِثِ ! تا رَثِ ا وصطعثۂ حزام وَحضْرَة حزاغ 2 َعلیِمۂُ حَرَاغ وَعُذِی 
بالْرام فَآنی ؿْمْمَجَاب لدّاللک“۔' 

ری شا نے بک ص۷ کر ہکیاجواس حالت میں لساسف رک را سے کہ 
ا کے پال بکھرے ہو ہیں >کپڑے ملے مل ہیں * اما نکی طرف با پچیلاجاے(اور 
ان اع حر فزرت آاے ضرم امت را کاکھاناترام ءا کا پیا ترام ان 
کال اس ھرام سے اور ا کی غھذ اترام رے ١‏ ت بکہااں سے ا لک دھاقول ہوگی ؟) 

اس حرف سے معلوم ہوامہ ہرد ہآدئی جم سکاکھناپیبااور لپاس مرام ہو٤٘س‏ کے جس مکی 
رگ رگ اور ری ری بی ام چدست ہوچکا ہہ ان سکی دعا الہ قعالی قبول نی ںکر ےکا 
ج بکگک دہ ال رام سے ماب ہوک ررزقی علا لکاا تما نی کر ےگا۔ 

(۴)ضلو صکائل اوتضو رقلب: 

تیولیت دھعاکی دوسرکی شرط یہ ےک دعاکرنے وا نےکادل اخلائص ‏ ازابتہ ضو رقلب اور 
سوزولیین سے معمور ہو کیو ںکہ دعاصرف ائی کان م ”ہی ںکہ دوچچار لہ اوک ریس ٭ اور نمازولی کے 
برا نکوزپاع ے؛ یاد سے ہوۓ سج کی رب ڑھ دکری بللہ دعاکی تقیفقت الد تقعالیٰ کے 
درپار ٹیل در خواست جٹل نے ؛ ن رح حاک کے یہاں درخ راست دۓے ہیں وو رخ واست 
دن وق ت انی ںبھی ای طرفگی ہوئی ہوتی ہیں ول ہم تع اھ رمتوجہہواے ؛ صور بھی 
عاتزو کی کی بناتے ہیں اگ زبالی پچ عر سکرنا ہوا ےت وی ےگنوکرتے بی ں؟ اور اتی عرشی 


(ا)صحیح مسلم ج: ۳ ص ۸۵ء حدیث : ۲۳۹۳ء باب قبول الصدقة من 
الکسب الطیٰب؛ دارا حجیل: ببروت. 


تو ياابصار )۲۳( 


منظورکروانے کے لیے پودازورلگاتے ہیں ہاور اس با تکالین دلان ک یکوشن شکمرتے مہی سک میں 
آپ ے رق اہرے کہ ہمارگی د رخحواست پراپریتوجہ 7 ٤‏ ایے بی الل تعا ی 0:5 
وف ٦‏ ا" اوزپرے خلوئں سے دھاماگی جاۓ کیو کہ درک عپادا کی 
رح دمائی ںبھی لو س کیک ام ش رط ے جس کے بخیرکو یھ ینم ل تقو لنویں ہوتا۔ 

اید تال یکاارشادے: 

”مال لا اه هو فَاَدْعَوْهمَخْلِصيْنَ لََالوِنْكَ “۔ 

َو غاف آیت ۹3+ 

روی ( برات و۸)زردے؛ اس کے سواکوئی معبود نہیں ؛ اى یکوتم پیا واینے دی نکو 
الع 

وہر یش ار شادالہی ے: 

” نبال الله لحو مھا ول دم ا ؤاد لین بسَالهالتقی مِدلوُ “_ 

رت الحج؛ آیت 0)۷( 

ران (قربانیوں )کےکوشت اللہکوکیشیتے ہیں نہ خون ہمکر ھا اتی پت اے۔) 

غفلت ولاپروای اور کن نے مممموری سے گی ہوئی دعا اللہ تما ی قب ول کیںکرم 
کہ تر نکی ومتتدررک عکم یں سے حظرت اوہ یرہ ری اللہ عنہ فرراتے ہی ںکہ رسول 
ار لان نے ار شادفرایا: 

” وا الله اَم وقِثون بالإجاة وَالَخُوا ان الله لا تِمَجیبِ 
ڈقاء مق شاو ۷ڑ 0 

(الد سے دواکر اس حال می ںک یں قبولی تکاعمل لقن ہواور یہ بات ذ جن نین 
کر وکہ انل ری اشے رھ اون نی ںک رجا سکیادل خا‌ل اور لاپرواہہو-) 


()ترمذی مج ‌‌ ص:۱۷١ہ۱ء‏ حدیث : ۷۹٣۳ء‏ دارإحیاء التراث العربی ببروت. 


تو ارالصار )۲۳( 


)۳( ف ال شک اداگی اورکپائر سے پربیز: 

قولیت د مکی تیسری شرب فرالک وواجبا تکی ادا یھی ےکیو ںکہ اعلام کے ا رکا 
فا :نیئزت ازز کن کر ویر سے ٹک سے اسان اللد 
تالی کے نزدیک بج رم وم بفوص فرار پانا سے 

2- وواجبات 7 بر و ساتھ سا تو شراب لوڑی خر وید تھرور و 
بر فییت ا لا یا ا ا ا 
ضرورکی ےکیو ںکہکتتاب وسشت میس ال نکی رشت واج طور پرآلی ے۔ 

29-2 ےتگل /ابفدافازنک کی بیس نونتاوبہت 
درازہوجاۓ اس لیے ہنظراختضار ترک جا ے۔ 

آراب دعا 

جس رح قجولیت دھاکے ش ایا ہیں ای راس کے بن ھا بکھی ہہیں جو تبولیت دعا 
کے لے مو شڑخابت وت ہیں ١‏ و آداب دررج ذریل ہیں : 

)0( طہارت ووضو: 

ہلا ادب یھ ےک دعاکرنے والاباوضوہوکیو ںکہ طہارت وپالجزی شیع کی نظرمیں 
جہاں نمازو حلاوت کے لیے لازم سے وہیں بی بہت پپند رد اور مطلوب صف تھی ہے بک 
صافر بے وانے بندوں ے ال تعالی معحب تک رجا سے ججی الہ ار شادالہی ے : 

”اللہ ےت الكفرننَ “) سورۂ توبه آیت : ۱۰۸) 

(اور الد تھا ٹی پک وصاف رب والول سے محب تک رتا ہے-) 

اس لیے دعادمناحجات سے علطے وضوکرلیناچا ہے۔ سن الپ داد *نسائیء بن جان 
اور متندررک حا میس حضرت مہاجربن شف وا سے ددایت سے فرماتے بی ںکمہ میس رسول 
ال ئن کے پا لآیاء اس وقت آپ بایان اسخنیاک رر سے سے ہ یس نے اکر سسلا مکما: آپ 


تو الابصار (۲۵) 
نے وضوکر لیے تک ملا مکاجواب تہ دیا- 
ا کے بعدعزر پچ لکرتے ہو فرمایا: 
”اٹ کر مث ان أُفکرَ اللهإلا علی طہْر (از قال علیٰ الطهَارۃ) کت 
(ایھے مہ ابھانہ لکاکہرٹش ارت کے بضی راد رکا کرکروں-) 
اور جب دعالجھی ال کا ذکراور ال کی عحبادت سےتوائس کے ل بھی طہارت اوروضوہونا 
پاے- 
)٣(‏ امتتتتبال قبلہ: 
دعاو مناجات کے وقت بل ہکی طرف من کر ناھی ایک مس تب اور پپشریدہ ارے؛٤اں‏ 
ل ےک شمراعت اساا میدن نما کے ے قبلم رم ون ےا عم دیاے اور ر سول الپ یی کا دعا 
کرت وق بھی قبلہ رخ ہو الئی اعادیٹ سے خابت ے۔ 
فی شرے: 
”اتب مَسول اللہ آللا الْبْلَة ئ دُاء الدنمنقتاء“ ۔() 
(ئی باڈ پچ نے دعاے اس تا کے وقت اپنار غ اور قبلہکی طر فکریا-) 
مل می ے: 
” ِمْتقْبَلَ الْْبْلَة ‏ مُعَاؤ يَومَ بذ“ 
ری 2 ای نے خزو بر کے موٹح پردھکرے وقت اپنے رز اقب کی طر فک ریا (٦‏ 
ان احادٹ سے معلوم ہواکہ یہ بات ون او رآداب دا یں سے ےکم دھاکمرتے 


()_سنن ابی داؤد ج: ١ء‏ ص: ۸ء حدیث : ۱۷ء باب إیراد السلام وھو یبول؛ 
ذارالکعابت اتی ٥ررت:‏ 

(۲) بخاری مع فتح الباریء ج: ۱ء ص: .۱٤۸‏ 

))۳( صحیح مسلم موالە فتح الباری ٴ(1۱۔ 


تو الابصار (ہ) 
وقت بترہلہڑوہو_ 

(۳) دونوں پا تجھ اٹھانا: 

دعاکرنے کے لیے اپے دونوں پاتھو ںکو وپ رتق ریا چرے باکندععوں کے براب تک 
اٹھاے ؛ ا ل کہ ہگمداگکی حالت کے مشاب سے ہ جیے مق سی دروازے پ رکھٹڑے ہوکر 
سوا لکرتاہے۔ اور اپناکاسہ رات لیے کے یآ کے بڑھادتتاے۔ ای رح ہندہ الد تال ی 
کے حور پاقھو کا پیالہ رات کے لے بڑھادے۔ 

آاودا دہ ترمر یی ۷ این ماج متدررک جم اور من رآ میں تحضرت سلمان فا ری 
ا سے دوایت ‏ ےکر سول الد ان نے فربایا: 

”اح گر متخ من عَبٔیہ نا رم يہ يہ ا تما صِمْرا 

(الل تعالی بہت بی زیاددحیااور داز دالاے اسے اس بات ے 
بنرے کے اھ ہوۓ پانکھو ںکونھالی ونام رادوائیہ لو اد دئۓ_) 

اس حریت سے معلوم ہواکہ دھا کے وقت ہاتجھ ابٹھاناسنت ہے ہ اور یہاں مہ با تگگا 
ئن یں ر ےک حضرت اس لے سے مردکی ہے : 

” أن التی صَل ال عَليْه وََلَمَ کان لا يَْكَع يَیْہ فی شٌئؿو مر 
,008“ت808ك8ك2۵2۵0ء۳)۳ءی]۳ 


سص ‏ ے 


(ننی اکم بنڈپ دعماکرتے وقت اپنے پانھو ںکو او یب نہیں اٹماتے ےہ سواے دعا 


7 


(ا) سن ابوداؤد جح ۱ ص: ٥٥٦٢ء‏ حدیث: ١١٢۱ء‏ باب الدعاء دارالکتاب 


العريء ببروت 


(۲) سنن ابن ماجءج:۱ء ص:۳۷۳ء حدیث: ۱۱۸۰ء باب من کان لایرفع یدیهە 


فی القنوت ءدارالفکر؛ بیروت. 


تو ىا(ابصار (ے٢)‏ 


اسنتاے) 

تواس حدٹ سے مطاقا اھ اٹاک یکفی مرا نہیں ہبہ دوسرکی دعاؤں ٹیش دماے 
استنقاکی طرح مبالضہ کے ساتھ با انٹھان ےک فی مرادسے۔ 

دھاکے لے پاتھ اس انداز سے انٹھائۓے جائی سکہہاتھو کی بپیشت تل ہکی طرف ہواور ال نکا 
ندروٹی حقضہ اپنے چر ےکی مر ف یت دو نو ںکی ہتھیلبال چچرے کے سام ہویں۔ اس سلسلے یں 
حفرت مالک جن بمار ٹتڑے سن الپ داؤدیٹش روابیت ‏ ےک ٹیک رم جا نے فرایا: : 

٭إذا مَالئ الله عَژ وَجَل فَاسألوُ بین اَكُتُٔۂ وَلاً تال 
ِظهُورعا“ " 

(ج ب تم اللہ قزالی ے دا اگ وا نی ہتھیلیوں ےوتف سے مانلوہ ہتھیلیو ںکی 
ج40 

ابی ہی بودائودہ این ماج ہجھم طبرا یکیر اور مرک حا میں حخرت عبد یلد بین 
عال رشی انماس مردی ےکر سو لالم یلین نے فرمایا: 

وھ ھن أُكُتُمْ َلاً کَسالَوه بشهرِهَا“_'“ 

(ا یٹ سے تصیلبوں کے رخ گگو۔ ال پاتھوں نہ اگگو۔) 

ج بک رت این عیاش زذ نکی عددیت کےآخ میس مہ الفا بھی ہیں : 

” وامْمَخُزا ما وْمْزْئَخط'“'" 
() سنن آبوداؤد ج: ١١‏ ص: ٠٥٥٥‏ حدیث: ۱٢۸۸‏ باب الدعاء؛ دارالکتاب 


العربيی؛ بیروت٠.‏ 
)٥(‏ سن آبوداؤد؛ ج: ١١‏ ص: ٥٥٥٥‏ حدیث: ۸۷٢۱ء‏ باب الدعاء؛ دارالکتاب 


العربيی؛ بیروت٠.‏ 


ش و ارالصار )۲( 


(اور ہاو ںکوا نے چروں کی رلو_) 

)۵( مروشااور درددشریف سے دھاکی ابترا: 

دعا رے لے ال دکی چ وش کرے اور ٹی گرم یی پردرود پڑھے؛ پھر دعا 
نے گنو نک تع نع اود او مک *نساگی+ این ان اور من رج میں نت فضالہ من 
عبیررشٹی ال عنے روایت ے ؛ دہ فریاتے ہہ ںکہ ایک ای ےآ دی یکوئی ال بین نے نماز 
ن2 کت وت ا شس نے درود چا ککایں پپڑھا تھا ء تو آپ نے ا سکوہلایا 
اورفرمایا: 

”ا صَي اَحَدْخم قَلمةاتَحْیید ربّه عَرَجَلَ اتا ء فک انل 

عَ اي صَل اللہ عَلَيْه و ئ 

رڈ ےکوئ یخس نماز پڑ سے آ لوااے چای کہ اللدکی ضر وٹاے شریں 
کے پھ ری ار بایان پر درددشرلیف پڑ سھے اور پھر اپنے لیے جودھاجاے ماگے۔) 

)٦(‏ تو وائرارگناہ: 

اکا ایک ادب ‏ جیا ےکہ بندہ اپ ےگناہول اور خطاؤں کاٹ را رر ک ےلوب وا نغفا رکرے 
اور اپنے رب سے ہہ عہدکر ےکم و ہآندہ ال نگناہو کا ا ماب کی ںککرےگا۔ چناخیہ نضرت 
ون علی ااصلاۃوالسلام کاقصہٹرآن ات میس مم وف ے ےکا نہیں نے بی سے پیٹئژل ایی 
خطاکا اخترا فکیا اور خجات کے لے دعھاک ی توالڈد تال نے ا نکی دعاکو شرف تیولیت ے ٹوازا اور 
00 جات دلاگی عی] ماکنہ سور ڈالاخیاءییل ارخادا یے: 


() سنن أبوداؤد ج: ١١‏ ص: ٣٥٥٥‏ حدیث ۸۷٢۱ء‏ باب الدعاء؛ دارالکتاب 
العربيی؛ ببیروت٠.‏ 
(۲) سن آبوداؤد؛ ج: ١١‏ ص: ٣٦٥٥‏ حدیث ۱٢۸١۳‏ باب الدعاء؛ دارالکتاب 
العربيی؛ ببروت٠.‏ 


تو اڑالصار (۲۹) 


پ 


”7ء ٥َالُوْن‏ اذ ذَّبَ مَُاضياكَكیّ ان لن تقر عَليهقَتَاذی ف ات 
ان لا ال ال انت مك ابی کنث من اللبین ہا تما لد نکیل من 
الْغم ہد کںإاع نشی الم مین“ _ سورۂ انبیاءآیت: ۸۷) 
(یٹچلی وانے زوش کو یادکرو اجب دہ چلا غٹے میس بھرا ہو خیا لکیاک ہم اں 
گی نہکریس گے۔ بالاخر وہ اندعیروں کے اندر سے پکاداٹھاکہ تیرے سواکوئی معبود نہیں ء تو 
اک ہے ؛ بے شک میس بے ماکرنے والوں شی وکیا ۔تو ہم نے ا کا کا سن لی اور اس ےگم 
سے محبات دے دی او ہم مان والو ںکو انی رر رپا لت ہیں۔) 
جغ اتی او مسندا می نی الم یراط ار شماد ےک بندوج بکناوک نے اور کے : 
”رَبّ أَأَبْثْ( اَصَبْث) دبا فَاغَفز۔ 
(اے ایند اھ گناہ ہہ وکیا ؛ تو یھ نل وے_) 
اس پرالل تھالی فراتاے: ۱ 
”عَلمَ عَبْديْ أَنَله ربا یر الدب وَبَأَحُدُ بہ 
(کیامیرے بند ےکواس با تکاعلم ےک ا لکاایک رب سے جوگناہجخشا اور ان پر 
مرف تکھی فریاجاے ؟۔) 
ادرل رفا اے:” شَقَرزث لِعبْدِی“ ۔ ( ہے اپنے بند ےکوپٹنل دا۔) 


تن 


(ے) نیک اعمال اور نیک بندو ںکاوسد : 
دا کا ایک ادب یہی ےکم آپے اعال صا کے و سے سے دعاکمرے۔بھو ںکہ 


(ا) صحیح بخاری؛ ج: ٦‏ ص: ۲۷۲٢‏ حدیث ۸٦۷۰ء‏ باب قول الله 
تعا یلٰ”یریدوت أن یبدلوا“ء دارابن کثیر؛ بیروت. 


شی اڑالصار (٢)‏ 


خلوص نیت کے ساتقھ سیے جیے اعمال صا لہ کے وسیلہ سے دعاکرنابھی قوایت دعا کے لیے 
نکی سونڑے جاک ہب ہفاریی وسلم میس اصحاب فار ولا واقعہ ذمکورے ؛ 27ء۶ 
نے فرماپاکنہ چیہ زمانہ ٹیس ج٥‏ نآدھی اپنے کسی سر میں من را تکاوفقت خھ اتد اچان کآنڑگی اور 
اش لگئی۔ ان نو نےآنڑی اور بارش سے نے کے لیے ایک ببہاڑکی غاب پناہی۔ طوفان 
ادر بارش لکی وجہ سے ایک بہت بڑاھ رلڑھکتا ہوااسی مار کے منہ پ نجس میں بیجینوں داٹل 
ہوئے سے اور نما رکا منہ بن ہگ اتوس وفقت ا ننفنوں نے مشورہکیااو رکہا: 

”ا یْجیْخ مِن ھذہ الصَخْرَ لان کذغوا الله بصَالح آعْتارے:“" 

(ائس بڑکی ان سے نجات پانے (اور گے کا سوا اس کے او رکوئی ذریجہ نہیں سے 
کغم اپنے یک اعمالی کے وسیلہ سے الد تعاہی سے دعاکرو-) 

توانہوں نے اپنے ان اعمال کے وسیالہ سے دعاکی جھ 7 ا وا ا ور 
الد تقعالی نے ا نکی مکل ۷و ںآسمان فرمادکیکہ 0+ 7 
گئی۔ ان تیوں کے ان اعم لک تقصیلا بھی پچ ہفاری لم میس مرکو ہیں۔ 

اکی رح الد تال ی کے نیک بندوں کے و سے سے بھی دعاکی ججائ ےتوہ پا رگا لی یس 
مقبول ہوٹی ہے_ ۱ 
گی بارگاہ یس حاضر ہوا اور ع رخ سکیا: ار سول الاند ا میرے لے خر وعافیت (ھچتی بدناٹی والییں 
آنے کی دعافرمادیی ۔توس رکار نے فریا:اگ رتو چا ےآوتیرے لیے دھاکو منج رکردوں جو تیرے 
لیے ہبتر ٭ او راگ تو چا ہ ےت و تی رے لیے لپھی دہاکمردوں ١‏ اس نے ع ری سکیا:اچھی دعافرادکی۔ 
پوس رکار آف در مان نے ا ے بھی طرع وضوکرے اور دو رکحت نماز پڑت اعم دیاء اور 
607 


(ا)صحیح مسلم؛ج: ۸ص٤‏ ۸۹ ء باب قضة اأُصحاب الغار الثلائة۔ 


تو اابصار (۳۱( 


ّ "لع نان تا ےت ت٭0 

جّهْثُ بكَ لِل رٹ حَاجَی مَذہ لِلقضیٰ لی اللَهْمَ تَتَتعْہُ و“ ”“ 

ےج تسس کت 
رعمت ھر مصطظپے کے وے سے ۔ اے مھ نم ا نپ ےکس تن ار تک 
بارگاشیش ابی عاجت پیی کرت ہو ں گناک ری ہو؛ اے الد اغمیرے بارے میں مور جیا 
کیا سفار قول فریا۔) 

(۸) ا ساس ے سن کے سا تھ دعا: 

کات کے ےک یت ای جا تن جانا 
0 2 00" 
الد ور جےتولیت ضرور ماگل ہوگما ۔ اید تال یکاارشادے: 

” *َللهِالَِاء الْحُسٰی فَادِعُوْةٌ پِها “_( اعراف: آیت ۱۸۰) 

(الہ تتعالی کے ان نام ہی ںتواسے انکیں نامموں سے پکارو-) 

قر نک ریم کے مہ الفاط اس با تکی ول ہی ںکہ ال تعالی اپنے بنروں اور ا مفلوق پرانچائی 
مہریان اورک رم ف ریا تےکہماکگن اھ یچ دچاے اور ا سکاب ہبھی خودد یلیم فا جاے۔ 

(۹) یل اپٹنے لیے دعاکریں: 


دع اکاآنغما زا بی ذات سےکرنامسفولنع سے بی الہ عحخرت ابرائیم نے یں دعافرماگی: 
رن رب اجَعلَیٰ مقْم الو دن ڈزی رت 76ھ٣ئپي"‏ رتا اغَفْر 1 


کےٌ 2۶ ہے ہوم ہب دو ھ 


انیو 2 وم یَقوْمُالْحِسَابٌ “ (ابراهیم: )٦٤ ٠٤٤‏ 


2 ٦ 


()سن ترمذی؛ تاب الدعوات ؛ حدیث ۰۷۸٥ء‏ باب الدعاء؛ دار احیاء التراٹ 
العربي؛ بیروت۔ 


تو اڑالصار ۳۲۲( 


لے اید میہرے رب! شھے نما زکا پابفد رک اور مب رکی اولا دک گی ء اے ہمارے 
رب مب رکی دعاقبول فرما۔ اے جمارے پروردگار اجھے بن دے اود میہرے ماں با پک بھی پٹنل 
اور ویر مومنوں کوجھیپن د ےجس دنع ساب ہوگا-) 

اور رت وق نے اس ط رح دعاماگی: 

” رب ار لی ٥ای‏ وَلمن دخ بوقی مو متا لِلمومنْین وَالمَومل ت2 ول 
گزواليقِ تھا "۔ (نی۔ آبت: ۲۸) 

(اے ھرے پروردگار الوٹگے اور ہہرے مال پاپ اور جوکھی اھانرار ہوگر ھرے 
گھرمیں آۓ اور مام مون ھردوں اور ابیاندار عو رتو ںکو جن دے او رککافرو ںکوسدائۓے 
“٠‏ ء-“-ء ھ۸ 

ہمارے ‏ ھی لن ےبھی ا تکو بی طط ریت ہلملیم خرمایاے ججیآل ہا بودائ دہ تریرىی ہ 
صن نسائی ؛ مد رک حاکم او جع این ان شش خر تآلی بی نکحب لاگ سے مردی ے : 

7 7 فا ا پا 


تةْ ۰ 2 )م0 
(9 بلاج بک یکاکرفریاتے اور اس کے لے دعافریات ےتودعاکاآنغماز ای ذاتٹ 
نے را مت 


اس لیے دعاکا آنغماز اپقی ذات ےریہ لے اٹ لیے ماگھییں پھر ات وا دی اور 
دوست واحہاب کے لیے اورپ ردن رام ای اسلا مکوگھی اتی دھائی شال لکریی۔ 

)١()‏ جائخ دعاکرنا: 

اک ایک ادب ‏ کی سے اللہ تال ی سے اش شس مکی دھائی سکرس یڑنی جن کے الام 


(ا)سن ترمذی٤ج: ٥‏ ص: ٤٤٣٦ء‏ باب أَنْ الداعی یبدا بنفسہ؛ حدیث ۳۳۸۵ء 
داراحیاء التراث العربيی؛ بیروت٭. 


شی اڑالصار (٢٢۳‏ 


اور معاٹی زیادہ ہہول اور الن اللفاظا یس دین ود خیاگی بھلائال آحائس جاک ہابودا دہ این حہان ؛ 
من رآ اور متند رک ام ٹیل ام ال ؤمنین رت عائکشہ صدریقہ نل سے روایت ے : 

” گن ول اللہ صَل الله عَلَيْهِ بَستَجبُٔ ا وَامِمَ مِنَ الدُعَاء وَیَدَعٌ مَا 
ات ا ٰ 

(ی اکم مان حجائع دعاؤو ںکوپسندفرماتے تے اوران کے ماسواکوگچھوڑ د نے تے۔) 

(۱) آ گی سے دم اکرنا: 

دعادمناجا تآہست ہآہ تک لی چا ےییوں اک ہہ دعاکرنے یں بب نسبت بلن رآوازنے 
دعاکرنے کے زیادہ ھاج زی وانکساریی ہوکی سے ١‏ ریاکاری اوردکھاو ےکا خط رو نہیں ہہو تاجن کے 
آجانے ےم ل کاکوئی وزن نہیں ر بتا؛ چنا نچہ سور ٤‏ اعراف ہآبیت ۵۵ بل ار شادرالٰیٰ ے: 

(انۓے پرٹرر گا رکا اورک شیدکی ے پارو-) 

اور سر مم میس الد تعالی نے اپے فی حر ت ہکا یی دما انرک روک رت ہہوئۓ فرہا پا 

كَ اذ نادی رب یں اك كَفنا “_( سوره مریم: آیت )٣‏ 

(جب اک نے اپنے پدردددگارکاجچے جچے(آہتہآہتہ)پارا۔) 

(۴) دعائکامما تکوبار بار دہرانا: 

دعاکمرۓ وقت دیا کے الفا دودوہ جن ین عیب دہ راجیس * پا با یں کے اگ رکوئی 


دم الل تزالی سے رزق ما گے توصر فآیک مرعربی ” للْهمَ أززْف “ نہ کے بلمہان‌الفاظ 
کوکم ایک ین مرح کے : ”اللَعٌ ازرُفْی ؛ اللَهَمَ ارزفَْ ؛ اللَمٌ ارزفٔی“ ۔ 


()سنن أبوداؤد ج: ٤ ٥‏ ص: ٥٥٥٥‏ حدیث ١۸٢۱ء‏ باب الدعاء؛ دار الکتاب 
العربيی؛ بیروت٤‏ لبنان۔ 


تو اابصار )۳۲( 


ۓل ا رزقی ہے می لئ پت رڑں ےا اے ال کان رزق ررے۔) 

جیا کی سلم میں ححضرت عبدرااڈد بن سمود ڑا سے مردکی ے : 

”کان (صَلى اللہ عَلَيْه وَمَلَمَ) إِذَا دَعَا دَكَاقلاا ۔“ “" 

(ننی اک جن جب دعافرمات ےتودعا سی ہکلما تکوتین تین مت دہجراتے تے۔) 

(۱۳) کرت سے دھامانکزا: 

دا کے آداب میں بھی ےک اللہ تال ی سے بکشزت دعاکری ۔ تٹگ دسق ہو یا 
خوشھالپیء؛ ہرحالت میں الٹر تعالٰیٰ ے دعا وت فان قاتم رکھیں جآ ری شون لی 
ج0 کر الین جیے جیکسی مصمیبت و پر بای ملا ہوتا ےتوپ ر اللہ تعالی سے 
یلپسی دھائی سکر ناش رو غکردیتا سے ایا دی توصرف مطل بکا آدٹی ہو تا ے۔ اور زیادہ ھ 
لگ ا یکدریی کا شر ہیں _قرآ نکر میس انل تالی نے اس یط یکمیوری پاانسانٰ طیج تکو 
بیانگمرتے ہو فرمایاے : 

”و إِءًامَک ا الْسَا نَم دا ربَهُمَیببا اليّهِ تو لِذَا حول ِحْمَةقِنْهُ یما 
کان يد غَوَا یه مِنْ قَبْل دَ جعل وِلہ انْدَا٥َا‏ ليِلَ عَنْ سَیِيْلْم“_(زمر: آیت ۸) 

(انمان پرج بک یآف تال سے تواپنے ر بکی را ف رجو ]کر کے اس پکار تاے 
چھر جب ال کارب اسے ابق لت سے نواز دنا ےتوہ اس مصبیب تکوکبھول جاتا سے جس 
پردہ طیلے پکاررہا تھا *اوردوسرو ںکو ارد الیکا بس رھ ران لاتا سے ماکمہ لوگو ںکواىس(ایٹ) 
کرت ےکر تک 

وطاتب بی ےک مور وک دستی می ںآ بھی لوگ الہ تعالی سے دعکمرتے ہیں ۔ الد 
تعالی کے نزدیک ا ںآدئ یک دعانیا دو قدر والی ہوثی سے جوآسائش وآسالی او رآسودی وخونل 


ےھ تو اھ ھاعد تاتسن 
اذی اللشرکین؛ دارالجیل؛ بیروت۔ 


تو الابصار (۳۵) 
عاپی کے وق تبھی ال تا یکو نی ں بھولتا۔ک وہ مک علال ووفاداروجی شلام ہو اے جس یبھی 
عال بی اپنے آ کون ہپھونے۔ چامح ت زی اور متتررک حم بیس حطرت اُبوہ ریو رشی الد 
”مَنْ سَرٍَ أَنْ مَسْکَجِیْبَ الله ل لد المُتاؤِد وَالُگرب فَلَْکُثْر الدُعَاءَ ‏ 
کے و 
(جھ ىہ چابتا ےک ہجختبوں اور تک دستبوں کے زمانے الد تی اس کی دعاقول 
فرہاۓ ؛ اس خوش عالی کے زہمانے مم لکحرت سے دعاکرتے دہناچایۓ-) 
عالات خوا کے ہوں ؛ دما ومناجا تک یکشخ تکریی 290 ابی ذات ے 
عو لکررے ہیں جس کے خزان بھی نم نہیں ہوسکت ۔جوعطاکرت بھی نہیں جھتا۔ اور الد 
تا یکائوب تین بنددددی ے جوسوا لکرتے بھی نجھکے ۔ 
سن تر ری میں ےکر سول الف پا نے فرمایا: 
” سَلُوْا الله من قَضیہ؛ قَنَ الله عَرَو جَل نب ان بُسال مِن تضْليہ 
أَصل الیات طز لئے“ ٥‏ 
( الثرۓا لک ال وک رم طل بکرد۔ اراس با تکوپمن رک رتا ے ۶ 8.۷ 
کیاجاے۔ اور ال عباد تکششائٌ کااتظھارکرناے_ ( 
)۱٣(‏ مسفون الفابا سے دنا رنا: 
کی مقواجت کور تک کا فی رفا ہے تس 06 نز 
()سنی الترمذی؛ ج: ٤٥‏ ص: ٣٦٤٤‏ حدیث: ۳۳۸۲ باب أَنْ دعوۃ اللسلم 
مستجابة؛ دار إحیاء التراث العریی*بیروت. 


(٢)سن‏ الترمذی؛ ج: ٥ء‏ ص: ٥٥٥٥‏ حدیث: ۷۱٥۳ء‏ باب فی انتظار الفرج وغیر 
ڈلك؛ دار إحیاء التراث العربی؛بیروت. 


تو ےالابصار () 
دھاکے الفاظہ وہ جہول ؛ جوف رآ نکمربم اور اعاد تمہ می ںآۓ ہیں کیو لک پیر حمت جا 
نے اپنے خالقی ویک سے جن الفاظ سے دھائی سکی یں الع سے زیادہ موشرزبان اور طخ الفاظ 
4 اہی نہیں ستا۔ اور چھرر انسما کو روز مزہ زی نع یح آرنے والی تتقری لی بھی 
ضروریات و جوا ہیں ٤اع‏ سب کے تلق زبان رسالت ماب ٹ اڑا سے گی ہوئی بے شار 
دھائش موجوہیں لان بندرہاگ را خلا قب کے سا تھ اپنے لفاظاش سبھی الد تقعالی سے عاج زی 
کے ساتھ د اکر ےتوری ہج بلاشیہ چائزوور ہت ے ؛ اور الد تھی سے تولی تک امیرے- 

(۱۵ )گناہ اورشئخ رت یکی دعا کر نا: 

اللہ توالی ےش ابی چڑکی دعا ہ رگن ہکریں صے شریعت نے جرم وگناہ او رم قرار 
دیا مو جس سکس یىی ہنی ای نع تی ال ہر ا وک از اے ال ! 
ڈیر ے رفا رت ورڈ ا2ال ہے کہ اے الللد اجھے سیینماد یک کی نوف دے ؛ 
یافطاں ہہ سے چورگیکرنے میں مبریی بدد فرماء ابی دعائی مان ناجائز سے ۔کیو ںکہ ای 
دعائیں با رگا لی میں قولیت سے ہم مار نہیں ہویش ہ جیا ہج سکم میس حضرت ابد یرہ 
لک سے مروکی ےک ہیاک رم لا نے ار شاف مایا : 

”مُنْتَجَابُ لِلْعَبْه مَالع يدُغ پإثم أوْقَطيقَة رے “ ” 

(بنر ےکی دھااک گناو بارش ہتوڑن کی نہ ہوتووہدعاقجو لکی جال ے-) 

)۱١(‏ ہے صمبر یکا مظاہ روش کرنا: 

زعکی قولیت کے لیے بے صریی کا مظاہرہ نکر نی اگ رپ سسل الل تما ی ے 
۳ھ اس ککوئی مت نہیں نل رہاے؛ اوردیا جلری تّول نہیں بہوری سے لو 
ہے صصبرکی اور بے تمرار یکا مظاہرہکمرتے ہھوئۓ دعا ترک شہکری بللمہ دعاسلسسل جادیی رکھیں- 


(١)صحیح‏ مسلم؛ج: ۸ ص: ۸۷؛ حدیث: ۷۱۱۲ دارا جیل؛ بیروت. 


تو الابصار ك٣(‏ 


یوں ییی کہ جب ہ ککھاناابچھی رپ فک رتیار نہ ہوجاۓ اور چے ک ےکھانے کا وقت شہ 
ہوججاۓ ‏ داں اپنے ہچ لوکھا نا یں دی یکیو نک ماں جانقی ےک کون ساوفقت ہچ ےکوکھاناد ین 
کے لیے مناسب سے او رکون سانڑیں ہ گن پچ اپقی نادا کی وج سے دو تاور ضدک رتا ےکیوں 
کیہ و ماخ کی صلی تکومی ںگتا۔_ 

ایی بی انسان بہت کی دعائو کو اپتنے لیے ہر ومفی ہج کر مانکنا سے اور بہت کا 
تن نکر ا دک تو کن ےا ودرا ےکی دعاکراے عالا ںکہ واقعہ اس کے غلاف 
ہوا سے جدیماکہ الد تال یکاار شادے : 

علی ان تطرفوا کاو هو حور لک ٭وعَلی ان تماقا هو مل 
دالله لم د نتم لا َعلمونَ “ (لقر:۲:آیت٢۲)‏ 

( کن ےک کسی چیزکوناپندکروہ اوردہدھوارے عق میس مہ ہو اور لی )کن 
ےل می چی کو۰ جھوحالا سک دہ تھوارے جن میس بی ہو اور اللہ تعالی ڑتھھ ر ےکم 
ونتصا نکوخوب )جانتاے او رم (اا ںکولوری رح )کہیں جاتۓے-) 

بسااواقات انسان دعاکی عدم تبولی تکی وجہ سے بے عمبریی کا مظاہر دک تاسے اور دعا 
ککرد"اہے۔ر سو لکرم لاٹ نے اس سے فرب سے حی اہ سکم میں ححضرت اید 
ہربیرد ری اد ح نکی ایگ ردایت ٹیل ے: 

”ا یڑل مُنعَجَابٔ لِلْعَبْه ما لغ بُغ پاإثم ا تِيعَةِ رَجم مَالَم 
( زنر کی دعاقبول ہوٹی رہقی سے بش یکس یک ناویا تع نت کی دعانہ ہوہ ج بتک وہ 
ججلدی بازی اور ہے صبری دآرے۔) 

تی ےتا اے اللہ کے رسول پااغ ! انال ( مد بازی دے صبرکی) کاکیا 

مطلب سے ؟ لوآپ بایان نے فربایا: 


ووعومۂ 


لغ کک ان وت 2٠‏ فیشتد و ند ذَللیَ 
مو وت و غَوت فلم ارہ چھمتی ما ات ہا سم کہ ہیں 


تو عالابصار (۲) 
-چت8-ل8ل000000000000 رت 
(آری 0 سان دعاکرمار اھ توقجول ہوئی نظ نہیں لی اور پچ کت اکر دم اکرنا 
گھوڑرے۔) 
(ےا )ین واختاد کے سا دعاکرنا: 
رعاش سی شر ط کا استحال نکی بکمہ الد تال کو عفووخفور اور کووف و جم کھت ہہوئۓے 
پِرے ین واخجاداور مم وہ یی سے دواکریں .کیو ںکہ دھائیس ش رط کا ستتعا لکرنا امنوں ے۔ 
اس با تکی صراحت چ بای وسلم ء نسائی اور مسند امیس ہے۔ چنال چہ نضرت 
۱ اس وا سے روات ہے کر سول ال ویک نے مرا 
”إِذَا دَعا أُحَدُٔ قَليمرِم الأَة ؛ وَلا يَقولَن اللََإِنْ شِئت فَأَعطِنی 
ِلد لا منْتکر لآ “'“ 
(زن پت ین ےک وین دوک ےڈ وین عم کے مان سے موا کے آوز 
ہرز یہ نہ ک ےکہ اے الد !اگ توچ ے تو جکھے(فلاں چیز) دے د ےکیو ںکہ ا ںکوکوٹی مجبور 
کرنے والا یں ے-) 
(۱۸)امام صرف اپنے لیے دعانکرے : 
دھاے آواب میں سے ہ گی ےک امام تھا نے یوما ارۓ) بللہ سب متجزوں 
کے ل بھی دہوککرے۔ مل (میری بی جا( ہماریی اور لیس مکی بجاۓ (ج مم کے الفاظ 
استعا لکرے_ کوٹ امام ایق 0 206ج اپنا ہی خیال رکتتا ےلو 


(١)صحیح‏ مسلم؛ج: ۸ ص: ۸۷ء حدیث: ۷۱۱۲ دارا جیل؛ بیروت. 
(۲)صحیح بخاری؛ ج: ٤٥‏ ص: ٣٣۲۳ء‏ حدیثٹ: ٦۹۷۹‏ )باب لیعزم المسئلة فائہ 


لامکرہ لە ؛ دارابن الکثیر؛ ییامه؛ بیروت. 


تو الابصار (۳۹) 
اکا زرل خیائت کے متراوف ہوگا۔ حی راک اودائودہ نسمائی ‏ تی کی متندررک حالم اور 
کان ان میں فریان رسول پلاڈن سے 

1 سر نے 
وا ×0 

(ج بکوٹیآدٹی لوگو ںکی امام تکر ےتوا نہیں مو کر ا ےآ پکودھا کے سا تھ اص 
7۰007ئمم70 7 2 

(۱۹) حر سے تھاوز تک رنا: 

و ارت وففت عحد سے تتاوز ڈاڑیۓ یہ ادب ٹرآن کے ال نع کرات سے معلوم 
نے جو سور اعراف میں ہیں ؛ ارشادالٹی ے: 

نخز رک مار خی یلو تق“ 

(سورۂ اعراف ؛ ایت )٤٥٥:‏ 

(اڈ کوک اکر اور پشیدگی سے پکاردہ اللہ عدسے تپاو زکرنے والو ںکو پمن نہیں 
رھ 

اور ہے تحپاوزک رن کی عماممت حدیٹ شر یں بھی کی سے جا مالہااودا دہ اہن ماج 
ان جان:؛ متتررک جم اور سر اتر مل رت عبد ار بن مل ڑا سے ردایت ےہ 
رسول الم بلاط نے ار شادفرایا: 


(ا)سن أبوداؤد ج: ١١‏ ص: ٣۳٤٣‏ حدیث: ۹۰ء باب أیصل الرجلٴ وھو محاقن؟ 
دارالکتاب العربی)بیروت. 
(۲)سن آبوداؤد ج: ١١‏ ص: ٣۳٦٣‏ حدیث:٦۹)باب‏ الإسراف فی الوضوء؛ 
دارالکتاب العربی)بیروت. 


تو ارالصار )(۰) 


(اس امت میں ٹہ اليے لو گکبھی پیرانہوں کے جو طہارت دوضواور دعائشیل حر رے 
تماوزکرں ے ۷( 
٥ (۲)‏ یی 00 
نیک لوگوں سے دعامرواناصصرف جائز تی نہیں بللہ ایک یک خسن کا ےکیوں ھ2 
تخولیت دعاکی نہادہ امیر موٹی ے۔ اورپ ری الم با سے دوسروں کا اپنے لیے دعاکی 
7 اعادیث سے ثابت سے اور حا ہکرام رشی الد می ا ج لاٹ سے دعا 
مروا کرت تے_ 
)٢۱(‏ موم تک دعاشدکری: 
اپقی مو تک دعاش ری یکیو نک ایک موعنع کے لے بہرگز مناس بنہی ںنک ددد نکی 
زندگی سے دل برداشتہ ہوکراپنے لیے مو تکی تما اوردعاکرے۔ اس لی ےکہکر دو نیک سےتو 
وسکتا ےکہ ام کی شیایوں میس اضافہ ہوجاے اورک ہکنہکار ےتکن ےکہ ا سکوو بک ی وی 
جا اور اس ک گناہ محاف ہ وجائیًں - 
جح بای سم سطن اربعہ اور من ام یں حخرت الس ا سے مروبی ےک 
رسول ال شا 0م" 
7 اج ارک ات 
ار رج کے رہ2 ) 
او راگ ےکنا ضرور بی ہوکوا سی عدریٹ ٹل ج ےک دوس ط رح دعاکرے : 
0۵( اق کا خَيْرَا لیْ وَتوَقُٔ إِذَا گائث الوَفَاءُ خَيْرا 
او 0( 


ا 


(ا)صحیح بخاری؛ ج: ٥‏ ص: ٢٤٢١۲ء۱‏ حدیث: ٥٥١٥۷٥‏ باب دەی قنيی المریعض 


تو ياابصار زمیگ 


(ے الد اجب کک مھیرے لیے زندگی ایت ہو گے رہ رک اور جب مموت غیرے 
ٹن میں مہن رہ و نویک وفات دے درے۔) 

)۲( رونااو رآنسوبانا: 

دورالن دعا رونا او رآلسو بپانا دھاکی تقبولیت کے لیے مو رین 0 رت 
عبدایند بن عمرد بن العائ ذف سے مردکی ےکہ ٹیاک مبلا نے نضریت ابرازیم یل 
اَم کے بارے میں یہار شا دای پڑھا: 

< رب لع اَْللنَ گھیڑا شن الایں تی تبکھی قَإلَّهُ ِٹی ومن عَضَان 
بات ور گر “۔ (ابرام آیت: ۳۷) 

ماے مھبرے پالنہار !انہوں نے بہت سے لوزن زا سے بنڑکا دیا۔ کو جو مبری 
تابعداریکرے دہ میراے اور جو ہیر کی نافر یا یکر ےل وو ینیشن والا ہر نت 

اور رآ نک رم میں واروحضرت می ےکا قول پڑھا: 

(مورة حائلہ آرے )٦۹۸‏ 

(اک رتو این مزائزہ کو تر یر ےلان اوراگ رتو نہیں ماف نار ےآ ٴ 
زبروست تحت والاے-) ج- 

اس کے بعد یککرم ٹاٹاپڈ نے اپن دونوں پاھ اٹالے اور ” الله می أَمّی“ 
(اے اللند امیبریی ام تکومعا فکر) کت گے اور روتے گے _ 

ال تعالی نے ححضرت تل پے کو یتال مکھارا رب بہت رجانے والا سے کو بھی جا 
اور ئوہ یکیوں روتے میں ؟ ھی اکم اڈ نے وجہ بقائی حاما ںکہ اللہ اسے ہہت جاتتاے_ 
اس پپرائید تھالی نے فرمایا:اے جج تل اجاواو ہکہو: اے می ! 


الملوت؛ دارابنں الکٹیر؛ مِامه؛ بیروت٠.‏ 


تو الابصار )۲( 
( ا پک امت کے معالے می ؟ مآ پکوراش یکربکی کے ء پپر یا ن نی نکی گے-) 
(۲۳) ایق ذات اور اپنے اٹل ومالی کے خلاف بددعاتہکرنا: 
دا کا ایک ادب بجی ہےکمہ اپنے اود اٹل ومالی کے خلاف ددع رکرے ‏ جی لم ہ 

9 9 ۶ رر 

تدغزا عل اخ وَلا دْغوا عَل أرلَايُِمْ ذولا ٤آ)ھ2ھ2)‏ 

7 وافٹوا من الله سَاعَة تَیْل لِیْأَلَ فَيْمَا عَطاء تَيَستَحِیْبَ 

کے 0( 
(اپۓ غلاف پردعا نک روہ اپقی اولارے غا گی بردما کرو اپنے مال د متا کے 

خلا ف بھی بددعا ن کرد ۔کڑیں الیسانہ ہوک ہ تم ایل سے عطائس پا ےک ی کسی میں بردعا ک رٹھواور 

ذد یت گل فراگے-) 


ٹمولبیت دعاکے او قات 
یو ںتوا تھا لی ہردقت دہرآئن اپنے بندوںکی دعا“ختااور اسے تو لک رتاے ؛ ین 
خائص اوقات الیل ےبھی ہیں مجن میس دعائیس بہت جلدقبول ہوحائی ہیں ؛ جن میں سے لح 
اوقات ب إںل: 
)۱( حمالت بر ہمیں : 
سحبدوکی حالت می لک یگئی دواکو او تعالی بہت قبو لک رجا سے یی اہج سکم ء الوداودء 
نمالی لی الو عوانہ اور ممنر اج یں تحخرت الوہرےہ لے سے مردی ےکم ٹیا اکم 


(ا)سنن أبوداؤد؛ ج: ١١‏ ص: ٥٥٥‏ حدیث:١٥۱ءباب‏ النھی عن ان یدعو 
الإنسان علی أھله وماله؛ دارالکتاب العربیبیروت. 


تو ياابصار )۳) 


7 2 0 کر الو و فا6ز ا 


( جم رے مل بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ زدیک ہہوجاتاے ‏ تو( اس 
حالت مل )زیادددعاییں اائگاکرو-_) 

(۴) ہررا کی ایک خخصو صکھڑی: 

کی سلم ور مندا ریش حضرت وا سے مردی ےکہرسول الپ نے فرایا: 

”لن فی اللَْلِ لَساعَة لا يُوَافْقمَارَجلُ مُسْيعٌ؛ یَسال الله خَبراً من أئر 
انھا تک ا اط2 رات کت 

رر را تکی ای کگھڑرکی ای ےک دنیاوآخر تکی جس بھلاگ یکا سوال مسل مان اس 
می سکرے اسے الد تاہی ضرورپراکمے گا۔ اور کٹ ہررات می ہوثی ے۔) 

(۳) آڑی را تکو: 

آڑھی را بھی قجوایت دھا کا وقت ےکیو ںکہ ححضرت عثان بن الی الحاص اشققی رشی 
الدعشرے لیوسشی روایت ہے کہ رسول ا ٹوو فریہ 

تفم أَبوَابٌ السُمَاءِ نصف اللَّْل ء ء فَیْنَادِي مَنَادِ : ھَل مِن لھا 
کر و ٤‏ عَل مِن سَاؤِلِِفَيْعْطی ء :َل مِنْ مَکُرُوبِ فَْقَرٌحَ عَنة ء فلا 

نی مُسْع يَغو بدَغوق إِلاً ستَجَابَ الله ٤‏ ول الا ناغت شی 
بِقَر جا وع ۳ 
()سن ابی داؤد ج: ١١‏ ص: ٣۳۲٢٣‏ حدیث: ۵٥۸۷ء‏ باب فی الدعاء فی الرکوع 
والسجود؛ دارالکتاب العربيی؛ بیروت٠.‏ 
۲( صحیح مسلم؛ج: ٢‏ حدیث: ۱۸۰۱ء باب ٹیق اللیل ساعة مستجاب فیھا 
الدعاء؛ دارا حیل؛ بیروت. 
(۳) العجم الأوسط للطبرانی؛ ج: ٣٣‏ ص: ١٥۱١ء‏ حدیث : ۲۷٦۹‏ باب من إسمه 
إبراھیم ٠‏ دارال حرمینں ٭القاھرة. 


تو ياابصار ))۳ 


( تقر تلع کے ووان ےگلا :اور ایک منادیی اعلا نگ رجا ے دکیا 
کوئی دعاککرنے والا کہ ا کی دھا قبو یکا جا ؟کیا کوک سوا لکرنے والا ‏ ےک اسے 
عطالیاجا ےک یاکوئی ملا ےکرب ویلا ےکا کی مک لآسرا نکی جا ےکوی مسسلرمان الیسا 
یں جواس وقت دعاکرے اور ال کی دعاقول شہ ہوہ سواے زاپی عورت کے جو اتی شرم کاہ 
سے دنداکرکی ہے پائچر جو مسلمان سے دس فیص دی (ججری )وضو لکرجاڑے۔-) 

(۳) را کا آخریی تھی حہ : 

تہولیت دعاومناجات کا چو ھاوفقت رات تکاآخرکی تہائی حصہ سے اور رات خرو بآفختاب 
سے لے حصادق ت ککا نام رات سے ہ اندازے سے اس کے ٹن ےک کے آخری تن 
حصہ پر پڑ ے اور رما ومناجا تگا تبولیت کا وت سے بارخ بناری لم ااوداوَد 
یی ء این ماجہ اور مند ام بیس رت الدہرییہ تن سے روابیت ےک رسولامرم 
وٹ ناخرای 

7 بل ربا کل اَلَو إِل سَمَاء ادا جیَ ٭ فی لٹ الیل الاخر فَیٹول 
مَنْْ "4+0" للا مَْ بَعالِی اللہ من تَلتففزن فَأَخْرَ ]ئ۷۷ 

پ ۷پ 
موجہ ہہولی ہیں اور ار شاد ہو تا ےکوئی سے جو مھ سے دو اکر ہے ؟ یں ان کی رماوقُو لگرولں- 
کوئی مھ سے ما کے والا ےک یل ال ںکودوں؟ ۔کوکی روزکی کیا طل ب گار سے جو مھ سے روزگی 
ماے اور میں اسے رزوزیی دوں ؟؟وٹی ے جو یھ سے گناہ و ںکی معانی ماگے اورٹیس اس سک ےگزاہ 
معا فگررولں-) 


)۱) صحیح مسلم؛ج: ۲٢‏ یی ٥۵ء‏ حدیث: ۱۸۰۸ء باب ال رغیب ۴ الدعاء 
والذکر فی آخر اللیل والاجابة فيه+ دارا حیل؛ بیروت. 


تو ےا(ابصار (۲۵) 

(۵) را تکواچ اتک جا گے کے وقت: 

را کوکوئ ین ا چانک نینرے بیدار جا ے وا لے وقت می ماگی ہوئی دعالوھی اللر 
تعالی قبول فرا تا ے_ 

نا نہ ابودائودہ ابن ماجہ اور مسند ام یں ححخرت معاذ لے سے مردکی ےک سرور 
کیاممات بلاط نے فرمایا: 

”ما می مُشلم یٹ عَلی گر طاجرًقيککارُِنّ اللْلٍِ مسا الله تعال 
۵ ۹۹ ۶۶۰۶ 

نر نع اش کن لیک ی٤‏ ود زائت کے ءء۶۹۶ و 
اورالیےے یی ال اہی سے دنا وآخر تک بچھلاوں میس سے جو بج بھی ماگ تواید تی اسے وہ 
پزعطاارتاے۔) 

( اذاان ے وقت: 

دماؤ ںکی تیولی تکا سٹاو قت وہ ے جپٹ کی نما کے لیے اذان ہہوچناغجہ مسنداو یی ء 
اور انار ۃلاضہاء مق ری میس حضرت انس تل سے مردىی حرف ٹیل ے: 

"ا لاعت اوات الکتا تنک 222 

(تجمہ: جب نماز کے لیے اذان دی جا تو آسمان کے ورواز ےکھول دپے 
جات ہیں اور دعاقو لکی عالی ے۔) 


آخ3 


ات ان داؤد؛ج: ٤٤‏ ص: ٣٦۷٤‏ حدیث ٥٥٤٥٤‏ باب ف النوم علی الطھارة؛ 
دارالکتاب العریي؛ بیروت. 

(سستآن یعلی؛ ج: ۷ء ص:۱۹۹ءحدیث: ٤٤١٦ء‏ باب سلم|ت التیميی عن 
انی بن مالك؛ دارا مأمون للتراث؛ دمشق. 


تو اابصار (م) 


ر(رے) اک اسر ہے وقت: 

النن 1 تی میس الواام۔ نا سے ردایت ےکم ورام اما نے فرمایا: 

”لقع اواب السمَاء ؛ وَمُنْمَجَابُ لدُعَاء نی أَريَية مَوَاطِن: عِنَد الْقَاء 
الضَفُوفِ فی سَبیلِ الله عَرٌوَِجَل ؛ وَعند تُژولِ الْقَیْثٍ ؛ وَعنْد إِقَامَة الصّلاًو 
وَعندَ ری الَكَمبَتہٴ ۔_“ 

(تجممہ: جار اوقات مل الع کے درواز ےکھول دبے جات یں اور دعائیں قبول ہوٹی 
ہیں : چیک ے وقت؛ پان کے وقت؛ مانزکی اقاممت کے وقت؛ اورک کی زیارت کے وقت-) 

(۸) اذاان واماممت کے در میان: 

تن اداد ٹیس ہے : 

٣”‏ جُرَدالُعاء بین الشان وال قاع ہ_ل' 

ہے ار کنا 

ر.چ کے لور ہن 

77 پردعائیس جلرقبول ہوٹی ہیں ان یں سے ایک شب تدررے۔ اور 
بی رمضماان کےآخ ری ممشروکی طا رآنوں یں سے ایک رات ے س0 0 
ین فور نکی انآ ری سورہ* سورڈالقرر“ “ال ہوئی سے و ری سن الودا و سن می اور 
نمائی یس حضرت اریہ ون سے مروبی ‏ کہ یکم یٹ نے ار شادفرایا: 

”من قَامَلَیْلَةَ القَذَرِلِيمَانًا وَاخْتِسَابًا غفِرَلَه مَا تَقَدَمَ مِنْ دَیی““ 


(۱ا) السن الکبری نمی ج:٣؛ص:٦۳؛‏ حدیث: ٢٥٦٦ء‏ باب طلب الإإجابة 
عند نرول الغیث؛ مکتبة : دارالباز؛ مكة اللکرمة. 

(٢)سن‏ اُبوداؤد ج. مو ا ص٠:‏ ٥۰ء‏ حدیث اد باب ماجاء فی الدعاء بیں 
الأذان والاقامة؛ دارالکتاب العربی؛ بیروت. 


تو ياابصار (ۓك) 


(تزجمہ :جس نے شب قدر بی الد تعالی پر ابیان رکتے ہہوے اور ا کی رضاکے 
ول کے لیے قیا مکیاء انس کے ساب تھا مکنا نے گے ۔) 

ام ال سن رت جائشہ اناگ ٹپل نے نی الم بلاغ سے سوا لکیا:یا رسول الد 
ام ا اکر شب قدر معلوم ہوجا ۓےتوکیا دعاکروں ؟ یا ال نے فرمایا: بیردعاکرنا : 

” للع إِنَّكَ عَفُوٌ هب الْعَفْوَنَاغف عو ٣“‏ 

(تمر: و وک کو پپندفرماجاے ١‏ جج ےکی 
معاف ‏ ہارے۔) 

(٭۱) بارش کے وفقت: 

دع کی قبولی تکا دسواں مو دووقت ہے ج بآسان سے باران ر حم تکانزول من 
روس ڈوست تک نے“ 

”ثِثقانِ لا ثُرَدّان: الدُعاءَ عِند الكَدَاء وَوَقّتَ الْمَط“'" 

(تجمہ:ددوجت کی دعار نی ںکی عا ی اذانع کے وقت اور پارشل کے وورانی-) 

(۱) جع کے و نکی ایک نما سکھڑی: 

وت ما منوائح بی گیا جوان مم وج کان زا نکی کی ایک نماض کی 
کت ہناری 7 یں ححخرت ااوہررہ نا سے مروکی ےک ٹیا ین نے ار شا دفربایا: 

وا و نما کن سال اه امت لا 


() صحیح البخاری؛ ج:٢٣ص:‏ ٢1۷٦ء‏ حدیث: ۱۸۰۲ء باب من صام رمضات 
إِھانا واحتسابا ونیة؛ دارابن الکثیر ؛ الیمامة؛ بیروت. 

(۲)سن الترمذی؛ ج:٥؛ص:٤‏ ٥٥ء‏ حدیث:٣٣٣۳‏ دارإحیاء التراثٹ العربی؛ بیروت. 
() سن اآن ت ٢٢ء‏ ص: ۳۲٣‏ حدیث: ۱۲٥٤٢‏ باب الدعاء عند اللقاء؛ 
دارالکتاب العربی؛ بیروت. 


تو اابصار )۱۸( 
مت*““*0٭"“ 

(ترجمہ:بجعہ کے دا نی ککعٹیی ابی ےکہ جوبھی مسل مان انس میس الد تی سے سوال 
کر مان گی انس کیو دعاقمول فیا تاے۔-) 

وی سلم یس مب الفاطگیوں: ” وَهي سَاعَةً حَفَیقَةً“ _'' 

(ڑجھہ:اوروہ بک بج وٹ یکھنڑی ے-۔) 

دوسماعت پاگھڑکی جعہ کے و کس وقت ے؟ اس کافیصل تی طور پر نمی ںکیا اسلتاء 
الب امام اتمد ر حم ا کا قول ے: 

” مکزا ریب فی المَاعَة عَةِ ال ترک فِيْها إِجَابَ مان ناف بَعْدَ الفَصْرٍ 
وَثُرکی بَْدَ رَوَالِ الكُتیں“۔” 

(جمہ: ا سکھٹڑبی کے بارے میں اکشراعادیث سے پین پا ےکہ یہ حصصرکے بعد ے 
اور گی امیر ےکم دہ زوا يآقاب کے بحد( نی ىہ بوقت جع )اے-) 

۳( رات 

جن موائع پر دعائیس جا قہول ہہوٹی ہیں ان ین سے جح کی رات کا آنرکی حض کی 
جئئے ۔جنانچہ سن تر زی میس ظرت عپ الد بن عا سے ٹپل بن سے روایت ےکم یں رسول 
فافاظ کی بارگاوٹش حاض را ھی حضرتمی بن الی طاب لا اض رہوے او کا : 
آپ پچ یرے مال باپ قرہان؛ یف رآئن ممیرے سے سے اجار اے ؛ ٹیس انس پے تاب ونہیں 

اما تور سول او شا یغ نے ار شا دفرمایا: :اے اون ؟ اک تھی الم ےکلرات شہ سکمادوں جن 

() صحیح مسلم؛ج: ٣۳‏ ص:٥؛‏ حدیث: ۱۲۰٠٢‏ باب الساعة التی فی یوم 
الجمعةہ دارا یل؛ بیروت. 
(٣)ایضاً‏ 
(۳)سن الترمذی؛ج: ٣٢‏ ص: ٣٣٦۴ء‏ باب الساعة التی ترجی فی یوم ا حمعة؛ 
دار|حیاء التراث العربی؛ بیروت. 


تو الابصار ڑےنگ 


کے ذر ہیے ا تال ی تھی ںنفع بہیاۓ ور کات نی ںبھیکع بے جنمیں تم مھا اد رتم 
جوبھی علم وص لکروا سے تتھوارے سن میں نف لکردیں ؟ اٹھوں نے عرخ کی :کیوں نہیں 
پاررسل الش !گے بے و ہکات سکھا و سے آ پوپ نے فرمایا :جب جح کی رات آۓ تواگ تم سے 
ہو کے رات کے آخری تھائی صے میس نماز پڑھو کیو ںکہ اس وت فرشت شت حاض ہو ڑل اور 
ال دقت دعا رگا؛ا بی مں قول ہوثی ے“ ک 

(۴۳) نر نماز ہے بعد : 

سفن تر خی یس ےک یرم ڈیڈ سے سوا لک ہاگ کہ دعاکب جلدقول ہوئی ے ؟ 
آپ بلاا ئن نے فربایا: 

"8۳×۴ ۶ٌ 

(رمہ ہے تچ 

: حلاوت خرن کے بعد‎ )۱٣( 

من امروسنن تریذزی بیس نضرت عمران من صحبان رشی اڈ عحضرسے ھروگی ےک ہنی 
ال با نے ار شا دفرمایا: 


”مَنْ قَرا الْمُرْاَنَ فَلْسايِ الله بہ فَإلَه سَيي؛ اَفومُيَفْرَوُونَ القرَْنَ يَسلَونَ بہ 


٠‏ ا ۷ / َ رر 

( جم :جب فرآئن پڑھوتواس کے و سے سے الد سے مانوءکیو ںک ہبہ ایی لو کبھی 
پیا ہوں گے جوشرآن پپڑ ھک رلوگوں سے سوا لکربیی گے۔) 
()سن الترمذی؛ ج: ٤٥‏ ص: ١٥٥‏ باب فی دعاء الحفظ؛ حدیث ۳٥۷٣‏ 
داراحیاء التراث العربی؛ بیروت٠.‏ 
(٢)سن‏ الترمڈذی؛ج: ۳٣۹۹ :ثیدح٢٥٥٥:ص ٤٤‏ دارإحیاء التراث العربی؛ بیروت. 
(۳)سن الترمذی)٤ج: ٠٥‏ ص:۱۷۹ءحدیث: ۲۹۱۷ء دارإحیاء التراث العربی؛ ببروت٭. 


تو اڑالصار )۵( 


(۸ا) میلس کک رمیں: 

کیل میں رسو لک رم ا ا رشاے: 

”لا يَفْعْد قَوْعُ يَذّگُرْونَ اللہ للا حَقَنهُمْ المَلاَیِسكة وَعَهِيَنهُمْ الرََةُ 
اٹ لِم المُکیتڈ + واگیغغ الفیتن جنت“_'' 

(تجمہ :جب پپنھ لو کسی بجلہ وی ےک رادل رکا 5ک رکرت ہی ںتوفر شت شنے نہیں ڈہاب لیت 
یں اور انی پررحمت ای سافن ہوجائی سے اوران پ رسکی کا نزول ہوتاے -اور ایر ا یکا 
ڈکرازنے فرشتوں می ںکرجاے۔) 

)۱١(‏ عم رف کے دون: 

دعاو لکی تبولی تکا ایک موٹح لوم عر فیچ واج سے مہ نہا نات میا مارک دنع ے ١‏ 
ترز یی میس حضرت این عم ری سے مردىی ار شمادنبوی اڈ ے: 

یتین دعالوم عرف کی دعاے اور کین ذکرودعاجو میں نے او رم سے نیل انان کی 


”لا إِله إِلاً ال وَختۂ لا شَرِيك لہ ء آە الْْلْكُ وَل الد وَهُوَعَلى کل 
شَيْو قَیی“'' 


(ترججمہ :الد کے سو اکوکی معبو نہیں ۔ وہ اکیلا ے ؛ اس ککوکی شریک میں ٤‏ ایک 
باد شاتی ے اورای کے لیے تحریف ےء۔اوردہہرچچزیرقادرے-) 


()صحیح مسلم؛ج: ۸ ص: ۲٢‏ حدیث ۷۱۳۷۰؛ باب فضل الاجتماع علیل 
تلاوۃ القران؛ دارا چجیل؛ بیروت۔ 
(٢)سن‏ الژمذی؛ج: ٥‏ ص: ٦۷۲‏ حدیث: ۵ػ۵)ھباب یق الدعاء یوع عرفة ٠‏ 
دارإحیاء التراث العربی؛ بیروت. 


تو ياابصار (۵۱) 


(ےا) جھریی کے وقت: 

قبولیت دا کے اوقجات میں سے ہرک یکا وقت بھی سے اور رک کا وقت را تکا ھٹا 
صہ ہوا ہے _ اس وقت دعاداستغفا رک رنامومنوںل اورپ ہی زکارو ںکی علاصمت دے- 

کی کی ان عریث ُل ےک ٹیا اکم لڈام نے مولیت دعا کے او قات 
بات ہو فرمایا: 

”جوف ال الآخر مکل صلوات مکثوتا“" 

0" 

)۸( مر کی ایک سلت وقت: 

کی ری سلم دو داد رذری شس ےکی رحمت بے ارشا یہ 

”نا سَيعْٹم صيّاع اليْة قَااوا الله من قَضیہ فَإِنّهَا رٹ مَلگا ِ٤ا‏ 
سَمعقُم تَھیٔق ا مَارِ قَتعَوَدوَا بالله مِنّ المَیْطانِ فإلَه رای شَياتَا“۔'' 

( رجہ :جب تم مرک یآواز سن وقواس وقت اداد تھالی ے فل واحما نکی دعاماہاکرو 
اس لی کہ وواس وقت فرشتو ںکودکتاے ؛ اور ج بتم مر ےکی آواز سٹو تو ”أَغذ بالله مِنَ 
الكَیْطانِ الّجیٔ“ پڑھاکرو ءکیو ںکردہ شیطا نکوگ ہگ آواز ؤالتاڑے-) 

(۱۹) طوا کی دو رکعتوں کے پعر: 

جب طوا فکعبہ حشریف سے فار ہو چائی ستومظام ابرائیم خِقَ اور خانہکع کو ایک 
سیر یش اپنے سان رک کر دوننیں فی ضرورکی ہیں ؛ ان کے بع ربھی دھائی سک کی جا ئنیں- 


(ا)سن الترمذی؛ج: ١٥ ٥:ص ٥٥‏ حدیث: ٣۹۹‏ ۴) دارإحیاء التراث العربی؛ بیروت. 
(۲)صحیح البخاری ٤ج: ٣٣‏ ص: ١۱۲۰ء‏ حدیث: ۳۱۲۷ باب خیر مال السلم 


تو ا(ابصار ۲ہ( 
ىُ جڈٹ کال مبارک بتا تا ےک می وق تگھی وقت قبولیت ے _ ١‏ 

(۰) آب زم یئ ہو : 

سن این ماج ؛ مصتف این ال خیب ہ سن تی اور ندرا میس رسول اللہ ےکا 
ارشادے: 

300٦ 

( جم :آب زمزمچ۹س(نرض اور مر کے لیے )یاجاۓ مفیرے۔) 

خودٹ یرم اڈ ےتوج سندکے سا ھآب ز مز پک یکوئی دھاثابت نہیں البتہ 
رت عبدالل جن عپاس لات جب آب زمر پتے تو اللہ تعالی سے بد واکپاکرتے تھے : 

” لن أَسألك عِلْماتَاقعا وَرِژقا رَاعًا وَِفَاء مِن کی ٠‏ 6اک 

( تم :اے ال ایس تچ ےن پن علم وع رزقاورہ یبای سے شا انتا ہوں۔) 


موم نکی دھا ہہ رحال قول ہہوٹی ے : 

۶۳ +0 " یا وا سکی دعاکوای 
وقت قجو لک رلیاجا تاے ١‏ یا ال ںکوآخرت کے لیے ذخ روک رلیاجا ہے ؛ یا ام کی وج سےکوئی 
آنے والی مصیبت ٹال دئی جاقی ہے ۔ بشرطہ داکرنے واا لم وج مکی دعانہکرے۔ چنا یہ مند 
اص7 منرآليی نی اور متند رک حام یل حخر توعد خددکی سے ھردکی ےکر عو لاک رم 
لڈام نے ار شا دفرمایا: 


(ا)الملسلك العقسط+“ص: ۱۳۸. 90) تاریخ دمشق لابن عساکر؛ ج:۷.ص: .٦٤٤‏ 
(۲)سان ابن ماجە؛ ج: ٢‏ ص: ۱۰۱۸ء حدیث: ۴۰٦٣‏ باب الشرب من زمزم؛ 
دارالفکر؛ بیروت.۔ 


(۳)سنن دار قطني؛ج:٢؛ص: ٣۲۸۸‏ حدیث : ۳۷ باب المواقیت؛ دارالمعرفة: بیروت. 


تو االصار اوت 


”ما مِنْ مُسْلم يَدَحُو بِتَغوَۃ لیس فِيمَاإِنْم ؛ ولا قطِيعَةً رَج إِلا أُعْطَاۂ 


الله بِهَا إِحْدی ثَلاَثِ: إِمَا تی ت0 نو ان 
اما ان وَصرِفٌ عَثة الشُوٰۃ یڈلیا“_9“ ۱ 

( تجمہ:جوبھی مسلما نکوئی دوک را سے جس می ںکوکی برای نہ ہواور نہ رشتہ داروں کے 
اض قیطع تعاق ہو ہ تو ایر اس دعا کے نے ان کن پانوں میں س ےکوئی اک ضرور 
عطافرماتاے: 

یوق ریب ہی بیس انس مانگ لیر ۷ر دی عاپی ہے۔ 

یا ا ےآخرت کے سی ےتفوطا رک لیاجاتا ے_ 

پان کے گے انح با ےک ان توف ا کے و زا روگ اف و وت وروی 
جالّّے۔) 


()مسندا مد بن حنبل ؛ج: ٣٣‏ ص: ۱۸ء حدیث : ۹٢۱۱ء‏ مؤسسة قرطبة ؛القاهرة 


تو ياالصار رہہ( 


+۰ ۰ 


اب دوم 


م. مئّون دادعا -- 


یی ےت 


تو ياالصار (۵۵) 


ضا انارک مسفون ومٹول دمااًں 


٭ سر بی داشل ہونے اورک نکی دعا: 

تمورج یا فربات ہیں کہ ج بکوئی مسر میں داخل ہ دوب دماپڑ ھے: 

لع خی اواب رََيك۔ 

(ترجمہ:اے اللہ امیرے لیے ابق رعتوں کے درواز ےکھول وے-) 

اور مر ے لے ہو مہ دا پڑ سے : 

لق اك من تشد _" 

( ترجہ : اے الہ ایس تھے تم نل مگگاہوں۔) 

89 

کھانا شرو غکرنے سے علے ” بضم اللہ الخخلن الّجیم “پڑ ھے اور گر ابندا مٹں 
پیڑھنابھول جا ۓےتوجب اد آۓ ہی کے ” بشم 2۵ء0 
(ا)اخرجه مسلم عن آأبی آسید رضی اللہ عنہ فی صحیحہ؛ کتاب صلاةۃ 
ا لسافریں*باب مایقول إذا دخل اللسجد؛ج: ١١‏ ص: .۲٥۸‏ 
(۲٭سن أی داؤد“ کتاب الأطعمة؛ باب التسمیة على الطعام حدیث: ۳۷۱۷ 
ج:٣ء‏ ص:۸۷ء دار إحیاء التراث العربی؛ بیروت . 


تو اڑالصار (۵) 


هکھانے کے دی ما 

کھانے سے فارغ ہوک ریہ دھاپڑ سے : 

7 7 حا تن تا 

( جم :الد تال یکاشکرے جس نے بجی ںای ٭ پلایااور ملمانبنایا_) 

٭ افطارکی دعا: 

ه اللْٰعَ لَكَ ضْنْث وَعَل ریت أَنْطلث_” 

(ترجمہ: اے الد امیس نے تیرے بی لے روزہ رکھا اور تجرے بی رزشقی ے افطار 
2 


5 


و 


0 ذْمَب الَمَأَوَابقلْتِ العْرُؤْق وَتَبَتَ الْأجْرْإِنْ شَاء الله تَعَا۔''” 

( جم : پیا بج گئی ء رکییں تر وکئیس اور ان شاء ال تی ناب شاہت ہہوگیا-) 

٠‏ افظارکرائے والو ںکوے دعاوے: 

أفْظرَ عِنْدَکُمُ الضَائِنُونَ واگل طِعَامَكُم الابْرارْ وَصَلَتْ عَلَیْسُمْ 
0 

ہہ سر ٭٭ رہ كأػ۷‌آٰ 

(نڑچمہ: ھوارے پال روزہ دار افظا رک ریں؛ یت لوک تحھھاراکھان اکھائین اور تۓ 
تجھمارے لیے دعاے رع تکریں-) 
(0سن أی داؤد“ کتاب الأطعمة؛ باب مایقول الرجل إذا طعمء ج:٣‏ 
ص:۱۳ ۵م ۷۰م دار إحیاء التراث العربی ببروت. 
(۲٢)اخرجه‏ ابوداؤد؛ الاذکار للنووی؛ ص:۱۷۲ باب مایقول عند الافطاں المکتبة 
الأمویة بیروت؛ ۲۱۹۷۱. 
(۳)اخرجه ابوداؤد؛ الاذکار للنووی؛ ص: ۱۷۲ باب مایقول عند الافطار ۔ 
(٢)اخرجه‏ ابوداؤد؛ الاذکار للنووی؛ ص: ۱۷۳ باب مایقول إذا أفطر عند قوم . 


تو الابصار (ے۵) 
٠‏ نے کے نی وا 
جب سونےکااراد ہر ےلموداہناپاتھ اٹنے ر خسار کے بے رک وک ریہ دعاپنڑ ھے : 
وو ارت ا ۱ 
(ت جم : اے ال امب ریی موت وحیات ترے گی نام سے سے۔) 
٠‏ نینرے بیدار ہونے کے وق تکی دعا: 
جب سوک را ت ےلوہ دعا پڑھ: 
۷ 0 ا ا ا کی 
( ترجہ : تام ھرلییں ارلدربی کے لیے مہیں جس نے ہیں موت (نیند) کے بعد زمرگی 
عطاکی اور (قیامت کے دن )اس یکی طرف اٹھناے-) 
سو”تے میں ڈرجا ۓل وکیا پڑ ھ : 
اگرنینرشیں ڈد جاۓ پاکوئی ڈراون خواب دیکھےتوبیدار ہونے کے بعد اپنے بائیں جب 
تھنفزکاررے اط کہ اش تھ وک کے پجھ ذرا تبھی شال ہہوں بی ریہ دا پٹ سے : 
أَعُية لت من الكيْطان الرَجیہ'' 
بادعاپڑھے: 
وذ حَمَاتِ الہ اللَامّاتِ ال لا جَاوِيُمُنٌ بر وَلاَ فَاچرَمِنْ شَرَمَا 


() رواہ البخاری عن حذیفة رضی الله رعنه؛ ومسلم عن البراء بن عازب رضی الله عنہ؛ 
مشکاة الصابیح؛ ج:١ء‏ ص: ١۲۰۸‏ باب مایقول عند الصباح والمساء والمنام. 

١(‏ رواہ البخاری عن حذیفة رضی الله رعنه؛ ومسلم عن البراء بن عازب رضی الله عنہ؛ 
مشکاة الصابیح؛ ج:١ء‏ ص: ١۲۰۸‏ باب مایقول عند الصباح والمساء والمنام. 

(۳) رواہ البخاری فی صحیحہ عں أبی قتادة؛ حصن حصین؛ ص: ٦٦ء‏ مطبع 
عباق کغل 2۱۹۱۴ 


تو عالابصار (۵۸) 


یل مِنَ السَّمَاء وَمَا يِعْرُّحٌُ فِيهَا؛ وَمِنْ ى شَرمَا کر الأَرْض؛ وم يُْرُج مِنهاء 
وَمِنْ شَرَفْتيي الیل وَفْتنِ الَهَارِ؛ وَمِنْ شَرَطوَارِق الیل وَالکَارِإِلاً ٭ارِقًا يظرْق 
ریا رخ" 

ری لی کان ت ما مہکی پناہ چاہتاہوں جن سے تن ہکوئی خیک بڑھ سکتاے 
اور ہکوگی بد( تھاوزک کت ے )ہر اس کے شرسے جوآسمان سے اترلی سے اور اس میس چریصتی 
سے اورااس چھڑ کرت فان کا سال ہے اورائس سے نی سے نجزرات اوردن کے 
فننوں اور حمادڈوں ے ‏ البتد جو حادش کرک یککاباعث ہو( وہ مت رے)) اے نہا بت ہربان!-) 

ل ہے خحوال کی دعا: 

اکر خیند ہآ ے یافینداجاٹ ہوجائ ےتوب دھاپڑ ھے : 

للع غَارّتِ جوم وَعَتَآتٍ لْون ؛ وَآَنْتَ كیٗ فَبَوٌُ لَاتَأمْ2 ە وَلَا 
وع یا عيى یا زم أَمْيیٔ اب ء وَأيعْ عَيْیٰ_' 

(ترجمہ: اے الد استارے وپ گے ہیں کون گنیس لیشنی لوک سو گے )ند آپ 
زندہ اور اورو ںکوقائم رکئے والاے ؛ تھے نہ اوھ آلۓ نہ خیند* اے پبیشہ زندہ رج وانے اور 
(دوسرو ںکو نام ررکھے وانے امیر گیارا تکوپرسکون بنادے اورمبربیآہنمو ںکونیرعطافریں) 

2 0 


0292.2 ۰-چك٣ەوھهھ)‏ ۳ 
اللَععإِيی شود بت من البْثِ وَا او ی۔' 


(١)رواہ‏ الطبرانی نی العجم الکبیر عن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) حصن حصین)؛ 
ص: ٦٤٦٦ء‏ باب دعاء الخوف والأرق. 

١(‏ الاذکار؛ ص: ۹۱ باب مایقول إذا قلق فی فراشه فلم ینم 

(۳)اخرجه البخاری فی صحیحہ؛ الذکار للنووی؛ص: ۱۲۷ باب مایقول إذاأراد 
دخول الجلاء. 


تو اابصار (۵۹) 


(ت جم :اے الٹمد ایی نراورمادہ شیطالوں ے تی کی نا اگتاہوں-) 

اس دعاکوبیت الفاا مل داقل ہہونے سے مییلے دروازے سے پاہرہی پڑھ نے 

٠‏ ببیت الفنلاے پاہ رفک نکی دعا: 

جب مبیت الفلا سے پاہ رن ےتوہ دھاپپڑ ھے : 

رق (یمہ:ی ‏ ری جمٹک جا ےیں) 

ابی پڑھے: ہ۵۵۵ءءە0 الذِیْ اَذْهَب عق تی 026 

تنا لور یں ال کے لیے جس نے مھ سے اذیت دو رکی اور جک عافیت دگی-) 

٠‏ کے کے لوکیدما پڑ ۓ؟ 

تم پڑھے: 

پشم اللہ تَوکٹ عَل اللہ لا حَوْل وَلّا کو لا بالڈو_'' 

ےرت یں پر ھروسہ ہے ہمناہوں سے یچ کی طاقت 
اور نیا لک رن کی قویت ال کی حجانب سے ے۔-) 

ور جا نے ارشاد نایا : جن سکھرے لے وقنت ىہ دعا پڑھتاے ال ے 
کپاجاتاے ' تھے ہدایت دیکئی تر یکفایت اور حفاظ تک یک “ اور شیطالن اىسیے دور ہوجاتا 


زورک الات و ےقالع ان پر ون کا 
طال تکاگئی۔ 


(()سنن ابن ماجہە؛ أبواب الطھارة٤باب‏ مایقول إذا خرج من الخلاء؛ ج: ١١‏ ص: .٦٢‏ 
(٣)سنن‏ ابن ماجە؛ أبواب الطھارة؛باب مایقول إذا خرج من الخلاء؛ ج: ١١‏ ص: ٢٦۔.‏ 
(۳)رواہ ابوداؤد والترمذی عن انس رضی اللہ عنه٠‏ مشکاةۃ الصابیح؛ ج: ١ء‏ ص 
٥ء‏ باب الدعوات ف الأوقات. 


تو اڑالصار (.ہ) 


ل*ھمرمیں داٹل ہو وکیا پڑ ے؟ 
گن ال ہوئے وفت بب دعاپڑھ : 
اي اك خَيرَالمؤلج وَخَرَالَخْرج؛ ہاشم اللہ وَكَتَا وباشم اللہ 
خَرَجْته وَكَل الله رکا توگتا۔''' 
( جم : اے اللد یس تھے انچھی ط رج داشل ہونے اور انچھی ط رع پاہ رمک کا سوال 
را ہہوں ہ اید ھی کے نام سک مھ بیس دانل جہوئۓ اور اہی کے نام سے پاہ رآ ے اوراپد دی پھ 
ھروساکیاج ماراپروردگاررے۔) 
ون نظ رت نیئآ ےل کو یف کین و 
وقت ال' رکا ذک رکرتا ےت شیطائن (اپنے اعوان وانصار سے اتا ےکن تھوارے لیے یہاں 
با تگز ار ن ےکی کہ سے اور تہ را تکاکھاناء اور ج بآدئ یگ میس داشل ہہونے کے وفنت ال کا 
زک ری ںک رتا تو شیطان (اپنے اعوان وانصار سے تا ے تن ات کک یک 
اور ج بکھا کا نے کے وفقت الٹ ہکا ذک ری ںکر ا تو شمیطاا نکنا ے میس را تکا مرکا نہ او رکھانا 
٤‏ 
٭*٭ بازار ٹیش داشل ہو کی دعا: 
نیاکرم لڈلپڈانے فرایاہکہ جیٹس بازار میس داٹل ہوکریہ دع پر ھھے اللدتالیٰ اس کے 
اماتحا بین دس لاکھ کیا ںککیھ دیچاے ؛ ا ےج دیس (اک گناہ مٹا دیتاے اور دس لاک در ہے 
إلنرفمادچاے اور جنت میں اس کے لیے ایک٠‏ ل نمی فیا تا : 
(رواہ ابوداؤد عن مالك الاشعري رضی الله عنهہ حصن حصین ؛ ص: ٥٥‏ باب 
دعاء دخول البیت. 


)۲( رواہ مسلم و ابوداؤد والنسائی وابنں ماجەه وابنں السنی کلھم عن جابربن عبد الله 
الألصاری ؛ حصن حصین ٤‏ ص: ز٥ ٤‏ باب دعاء دخول البیت۔ 


تو ا(ابصار (ہ( 

لال إِلاً الله وَحْتَۂ لا کَرِيْك لہ لَة الَُلَكُ َآة الهنْد بی ویٔمیّثُ وھ 
لا يمُؤْثٔ: دہ ار وَهُوَعَل کل شَئْء یر 

( جم :ال کے سواکوئی معوونویں وا سے ؛ ا ککوئی شر ک نہیں ہ ا کی بادشاہت 
ےاود ای کے لے قما مت یں ہیں دو جلا اور مار تا ١‏ وو( خود)ز نرہ سے اس بھی مموت تہ 
ےه کی کے دست مدرت میں ہم بھی ھلاکیٰے اوروہ رھ اور جتون) 

٠‏ بازاارٹیش دافل ہہونے کے وف تکی ایک اوردعا: 

پشم اللہ الله اَی سأَلَكَ خَيْرَمَدہ الهُوق وَٗ وکَلرَ 2ا وکا وَأ عو يك وٹ 

20 0210 ق نا وت یکا و ھا ن1 

7 ۷0ھ کچھ سے ا 
پازارکی بھلائی اور اس میں موجود قام چیزو ںکی بھلال یکا سوا لک رتا ہوں اود اس پازا دک بر اك 
اوراس ہیں موجور نام زی ںکی برائی سے تری پناہ ماگتاہوںء اور اے الد !ٹیل تج ری پناہ 
انا ہہول اس ےک اس میں مجھوئی نم او رکا وانے سودے مال پڑوں-) 

٭*" بارش ہ ولوب پڑھ: 

جب ہارش دک ےتودد انان ہار بی دھاپڑ ھے: 

لَهَ ےت نا زئأ. 

(تجمہ:اے الل لفن پنش پاش برساد) 


)١(‏ رواہ الترمذی وابن ماجه عن عمر رضی اللہ عنهہ ٠‏ مشکاة المصابیح ؛ج: ١‏ ص: 
بات الدعرانقاق الالفات: 

(۴)رواہ البیھقی عن بریدة رضی الله عنه؛ مشکاة الصابیح ہے 220 
باب الاستعاذہ. 

(۳)اخرجه البخاری ومسلم؛ الاذکارللووی؛ ص: ١٦١۱ء‏ باب مایقول إذا نزل ا مطر۔ 


تو ياابصار ھن 

٠‏ پاش کی وج ے منقصا نکاخوف ہوگوىہ دعا پڑ ھے: 

لع حَوَلَيْنَا ولا عَليتاه اَم على الام وَالراب وَبعوْنِ الأزيبَة 
ومتابتِ الف 

( تر جمہ: اے اللہ ہمارے اددگردپائی برساہ جم پ نہیں * اے الد اٹیوں ١‏ پاہاڑاوں؛ 
وادایوں اور در شتوں کے اگ نکی کہوں پیر پا برسا-) 

8* بارش نہ ہ توب دھاپڑھ : 

اَم أَينّتاء الله أينّتَاء الله أَينَْ_'' 

( تر جم : اے ال الم پ ہار راہ اے الد الم پر ار برساء اےال'د اہم پدیارش 
یرہا۔-) 

*" مرو ٹوٹ دک ےوک پڑھے: 

رت عبدااڈد بن مسعود ڈنل سے رودابیت ےکہ ہی ں حم دیاگ ینہ جب متارہ ٹوٹ 
کات ےکر کے می دعابنڑعیں : 

مَامَاء اللہ لا ولگ پادڈ ٣‏ 

(تجم :اللہ جھ چڑے ؛ الل توف کے بی (سی کی کوئی طاقت 201 

"رخ او رک کے وق تک دعا: 

٥‏ النَه لَاتفْْلَا ِقَضَِك وَلَاتُهْلِکُتَ بعَدَابك وَعَافْتاقَبْلَ ذَِاَ۔“ 
(ا)اخرجه البخاری ومسلم؛ الاذکار للنووی٤؛‏ ص: ١٦۱باب‏ مایقول إذا نزل اللطر 
وخیف منە الضرر. 
(۲)اخرجه البخاری ومسلم؛ الاذکار للنووی؛ ص: ١٦۱١ء‏ باب مایقول اذا انزل 
الطر وخیف منە الضرر۔ 
(۳)اخرجہ این السنی فی عمل الیوم واللیلة ٭ص: ۲۳۷ باب مایقول اذاانقض الکوکب. 


تو ياابصار زمیگ 


)7م : اے ال ! ہیں ان غضب سے نہ ماراور ان عذاب سے ثئہ ہلا ک کر 
اور یں اس سے سے عافیت عطافریا-) 

9 مْبْحَان اَی بُمَبْخ اعد بیو وَالمَایك مِنْ جَْقَی_ 

(قجمہ: پک ہے وہ ذات ج سک یچ زحع دج کے ساتج ہک رتا ہے اود حرش اس کے 
ون سز نر 

نیاچان یکر دعاپڑے: 

الله اَل عَلَيْنَا الین وَالِْيمَانِ وَالسَلمَة وَالاِسُلام وَالكرفیّق لِما جب 
وَتَریٰ رٹ ورك اللة۔''' 

(تجممہ:اے الد !اس تۓ چا نرکوام پدجرکت ۰ امیان “ سلامقی الام اور ہراس چیک تونق 
کے سات بل جونتے ند ہواور٘س سےتورای ہو+(اے چاندکمیب راو تارب انٹڑرہے-) 

٠‏ شب قدرل دعا: 

شب رین سد فا جع : 

الع إِقَكَ عَفوٌ نب الْعَلوَتاغف عَئی_ ٣‏ 

(تجمہ: اے اللہ ! بے شک تو بہت زیادہ معاف نریاے والاے اورمعا ‏ یکو پھنر 
فرما نا ےتویگے معاف ہارے-) 


ر0۷ 


()اخرجه الترمذی؛ الاذکار للنووی؛ص: ١۱٦١‏ باب مایقول اذا مع الرعد. 
(۲)اخرجہ مالك فی الؤطا؛ الاذکارللنووی؛ ص: ۱٦١‏ باب مایقول اذا مع الرعد. 
(۳)اخرجه الترمذی؛ و ابن حبان و الدارمی عن طلحة بن عبداللہ؛ حصن 
حصین٣ص: ۱٦١‏ باب مایقول عند رویة الھلال. 

(٣)رواہ‏ الترمذی عن عائشة رضي الله عنھاء ج: ٣٢‏ ص: ۱۹۰ آبواب الدعوات. 


تو الابصار رشن 

٥‏ ئن کن کو تی وا 

آ ند یلیہ اللَهْع کا حَمّنت خَلقی فَحَشن خُأف_' 

( جم : تام لم یں اللہ کے لیے ہیں ہ اے الد اجنس طر حکونے مبری صصورت ابی 
بنائی سے میرے اغخلا بھی انگے بنارے-) 

لباس نت وق تک دعا: 

لع نی سك مِْ خَیْرہ وَخَیْرمَا هُولَه وَأَغيبك مِنْ شَرۃ وَشَرمَا هُوَ 
اے_ 

رم : ہے الل ایس تھے سے ان سںکپڑ ےکی بھلاگی اور جنس تر کے لیے می بنایگیا 
سے ا کی چھلائی مامتا ہوں اور یل اس کپڑ ےک براکی اوریٴس متصر کے لیے بنااکیاے ا کی 
برایّے رکا بنا چابتاہوں۔-) 

٠‏ پا کے کے وق کی دعا: 

العنثیلہ الَزِقٰ ما ما أواری یو عورق ؛ وَاَنَگل بوی عیاق۔” 

( ترجہ : تام رلٹھیں اود کے لیے ہیں جس نے میے الیسال اس ہنا اس سے میں ایق 
ٹرش یک تا ہوں اور اپقی زن گی یس اس ے زبیفت حاص٥‏ لکرجاہوں-) 

ڑا ہار نے کے وقن کی دعا: 


بای الله الذِئ لا إلَه الا ہُو 


(ا)اخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة ص: ٦٦٤باب‏ مایقول اذانظر فی ا مرأة. 
(۲)اخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة ص: ۱١‏ )باب مایقول اذالبس ثوبە. 
(۳)اخرجه الترمذی؛عن عمر رضی الله عله؛ الاذکار للنوویص: ٢٢‏ باب 
مایقول اذا لبس ثوباً جدیدا. 


تو اڑالصار )٦۸(‏ 
( جم :ایل کے نام سے شرو جس کے سواکوکی متبووضٹیں-) 


تضور پا نے فرماپاکنہ ج بآدٹیکپڑاا تار ن کا ارد کر ےو یئم الہ والَنِى لا 
0( 


7 ب 


َال ہو“ پنڑھنااس کے ستراورجنو ںک یآنکھھوں کے در میان پر 

٠‏ کوو ںا 

رت اوہ ریو ری اڈ عضہ سے مر وکیا ےک حضمور با ٹن نے فرمایالہ ج بت مس 
0 سھ7 و ا کے اور ا کا دوست پا بھائی جو سے ' يَرِعَنْكَ 
اللة“ سیے بپھ راس کے جواب میں یکن وا ” يک گر الہ َيضیئ بالگ “کے_'' 

ڈائرو:۔- 

9۳ء 0 تو وقت ” اَل ڈو رٹ 
الَعَالَہيِنَ عَل فی عال” تہ ىف ۱ 

٠‏ آشو بش مکاعلاع: 

رع 

اللَهةٌ مَشغی پِبَشری وَاجَعَلَهُ الوارِثٌ مئی وَأرز 
وَانْصْزیْ کَلی مَن 1ئ 


(ا)اخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة ؛ص: ٠٠١‏ ٤باب‏ مایقول اذاخلع ٹوبا 
لغسل أونوع. 

() رواہ البخاری عن ابی ھریرة؛ مشکاة الصابیح؛ ج:٢+؛‏ ص:٤٥٥‏ ؛ باب 
العطاس والتثاؤب . 

( رواہ ابن ابی شیب موقوفا من قول علىی رضی اللہ عنه؛ حصن حصین؛ ص: 
۳ء باب ما یقال فی جواب العطسة. 

() روا ا حاکم وابن السنی عن انس٤‏ حصن حصین ؛ ص: ١۱۷۵ء‏ باب دعاء الرمد. 


تو ياالصار رو 
(ترجمہ: اے الد ا مبرکی لگاہ سے بر کر اور ا لکو مھ سے وارث بناھمرتے دم 
کک پائی رد )اور مھ دن یں بل دکھااور اس کے خلاف می ر؟ بی مددفراجرئہ رش کرے۔) 
٠‏ ھرلی کی عیادت کے وفقت ھی جانے والی دعا: 
۶۶7 ,ص, 0ھ 
لا بَا طھُورٌ إِنْ شَاء الله“ 
(ترججمہ:کوئی حر نکی بات نیں ان شاء الد می بہارگی گناہول سے )پا ککرنے والی ہہوگی-) 
*٭ ریف لکو دی ریہ دھاپڑ ھ : 


ہیں یر وی کرک نا ےو مات ارک نے 
فو رےگا: 


کی ۱ 2 
0٤ :‏ : ْ 2 زٍ 


( ترجہ : تھا مترلیئیں ادلد کے لیے ہیں شس نے بے اس جچیزے عافیت دکی جس میس 

کے متا اکیااور بے اپتی بہت کی مخلوق پرفضیلت دی۔-) 
7 7 م‫ 

: پرنشالی اور مصحبلبت سے ماد کی دعائی‎ ٠ 

وج بکوئ یت کی پر یا نی بامصیبت م ںگرفتار ہوویہ دھاپڑ ھ : 

ا ِلَ لا اللهُالْكریُْ العَظِیْع سُبْحَانَ اللهَرَبٌ العَزش العَظیم؛ آحنْد لہ 
(١)رواہ‏ البخاری فی صحیحہ عن ابن عباس؛ مشکاة الصابیح؛ ج: ۱١‏ ص٠:‏ ٤١ء‏ 
باب عیادۃ املریض وثواب المرض. 


(٢)أخرجه‏ الٹرمذی نی سننە ؛ الاذکار للنوویص: ١۲٦۹‏ باب مایقول اذا رأی 
مبتل رض اُو غیرہ۔ 


تو الابصار رےہ 


یں 


ربٌ العَالييْقَ۔'' 

( جم :عزت وحظمت وانے خیداکے سواکوئی معووگہیں اک ے الد ج عرش شی مکا 
اک سے تام لی اش کے لیے ہیں جوسارے جا نکاپللنہارے-) 
٭ با دعاپڑھے: 


آج ملف اق گنت ود الال“ 
(الأنبیاء : ۸۷) 
( ڑج :لوا 7 مت ا میں نرادیکہ رت م الو معبود نہیں ری نے 
پاکی ہے ؛ بے گنک جھ سے ہے چاہوا ت 
٣ ٠‏ ٹئ 
7 وسوے میں جلا ہو دہ ” أَعُوْذٌ پاللہ مت القَيْطان الرَحِیْو“ بڑےاور 


وج ےت ۓچ 


تِ ان لا إلهإِ 


)۴ 
00007+ ا 


تس 


(ا)خرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة ؛ ص :١٢۱باب‏ مایقول إذا نزل بە کرب 
أُوشدة۔ 

(٢)أخرجه‏ ابن السنی فی عمل الیوم واللیة ٭ص: ۱۲١‏ ١باب‏ مایقول إذا نزل بە 
کرب أُوشدة. 

(۳)أآخرجہ البخاری فی صحیحہ ؛ الذکار للنووی؛ ص: ١۱۱۷‏ باب مایقوله من 
بواوفرتت5 ۱ 

(٥)آخرجه‏ البخاری نی صحیحہ ؛ الاذکار للنووی؛ ص: ۱۱۷ باب مایقوله من 
بی بالوسوسة. 


تو اڑالصار (٦۸(‏ 
چس سے مجات بانے او رقوت حاصس لک رن ےکی دعا: 
7 کو ینف ا مکرتۓے کرت ھک جاے یا زیادہ قوت حصس لکرنا جا ے تو سوتے 
وفت بہ وظیفمہ پڑے: 
”فان الو“ (٣۳ہار!“‏ التبْلُ یل “ ۳٣(‏ بار)”لله اَقُجز“ (٣۳بار)یاہر‏ 
ای کیج س میس بر یرے۔ 
مان یش سےکوئی ۳٣۴‏ ہار اور بات گنی ساس پار ہد ۓ _ ٢'۵‏ 
باہر نماز کے بعد دس وس پار اور سو ۓے ویقت ۳۳ء ۳۳ بار ہ لیکن آیڑۂ أَئََز ٣٣‏ پار 
ر2 
ل خوف شیطان دو رک رن کی دعا: 
أَعوة وَج اللہ الْگریٔم الٹافع و بَِلِمَاتِ اللہ القَامّاتِ ء الَیْ لا 


رر ہے 


ا سم ۔ رک 02 2 ال ای >> ا ا 3 اھ ہیں 7 ‌۔ 
جاوِزهنْ بر ولا فاچر؛ مِنْ شُرَمَا حَلق وَذرا و برا وَمِنْ شُرّمَا یئل مِنَ السَمَاء ؛ 


ہہ" و 


مِنْ شُرّمَا بِعَرُحُ فِیْهَاء وَمِنْ شَرَمَا ذرا بی الازض وَمِنْ شٌرمَا برح مِنھاء ومن 
ہے می ٢ئ‏ ےہ سے و 93-9 زس 
شر فِقيِ اللَیْلِ وَالکَار ؛ وَمِنْ شر کل طارِقِ ؛ إِلا طارِفًا يَظرْق جنَيْرِیا رَكلنْ۔ : 

و و ٹیش الیل کے ال نلمات متام کی پناہ چا نا وں ججن سے ت ہکوگی نیک بڑ ستا 


(ا)رواہ البخاری ومسلم وأبوداؤد والنسائی والترمذی وابن حبان عن علىی رضی الله 
عنہ؛ وأُمد والطبرانی عن ام سلمة رضی الله عنھا؛ حصن حصین؛ ص: ٦۱٦١‏ 
باب مایدعو عند الابتلاء بالدین۔ 

(۲) رواہ آحمد عن ابن عمر ؛وئی نسخة عن( ابن عمر و) بالواو؛ حصن حصین؛ 
ص: ۷١٦۱ء‏ باب مایدعو عند الإبتلاء بالدیں۔ 

(۳)رواہ أ مد و الطبرانی فی کتاب الدعاء لە عن ابن مسعود رضی الله عنه ٤‏ حصن 
حصین٤‏ ص: ۹١٢۱ء‏ باب مایدعو عند ا لخوف من الشیطان وغیرہ. 


تو اابصار لن 
ہے اور ہکوئی بد( جھاوزکرسکناہے ) ہراس پچ کے شرسے جوآسان سے اتی ہے اود انس میں 
اتی ے اوراس چ کے شھرسے جو زین میس پیدراہولی سے اوراسں سے یی سے نیزرات اورون 
کے فتوں اورعادؤں سے البعزہ جو حادلہ کمہنٹرکی کا باعث ہو (وہ پیر سے) لے نہایت 
'ہریان!-) 

٭ وت پپرگوں سے شیا تکائل: 

نے کی 2 ببلوت پرلوں کے ہے نآ ےتوب دآواز سے اذالنع کے ١‏ اور 
آیامری پدرۓ_ ۷ 

8 رش سے سبف دوش یک دعا: 

ڈنف قرض میس منلا ہو دعاپڑ ھ : 

لم اکن بَلالِك عَنْ حَرَايك وأَغْذيیٰ بِقَضْلِكَ عَمَنْ سِوَاد ۔' 

( تمہ :اے الد قرام سے بھ اک ہعطال کے ذدیعہ مر یکفابی تک اور اپنے سم 
ے دہ “ردل مُگ ے ازکررے۔) 

٠‏ شک دقی سے مجات پان کی دعا: 

وٹ سی رزق یش لا ہودوج بگھرسے باہ فک وی دعا پڑ ھے : 

پش الله گل تفی وَمَان دیق اللَّهَمَ رغٍین بِفَضَائِك, وَتارِك ؿ 3غا 


(ا)رواہ مسلم عن أبی ھریرة ؛والہزار عن این سعد بن ابی وقاص؛ وابن أبی شیبة 
عن جاہر۔ حصن حصین “ص١١٢۱‏ باب مایدعو عند الخوف من الشیطان وغیر. 
(۲)رواہ الترمذی وابن آبی شیبة عن أبی آیوب ٤‏ حصن حصین٤‏ ص: ١٥۱٠ء‏ باب 
مایدعو عند ا لخوف من الشیطان وغیر. 

(۳)رواہ الترمذی وا حاکم عن علی رضی الله عنه ٤‏ حصن حصین؛ ص: ١١٦۱ء‏ باب 
مایدعو عند الإبتلاء بالدیں۔ 


تو الابصار (ەے) 
یر ین حقی لا اي یل ما أزت ولا تار ما َِّے_ * 
(تجمہ :جائن ومال اور وین (ہرایک کا معاممہ الد کے نام سے شر عک رتا ہوں ؛ اے 
الا یھ اپنے خی پ شی رک اور میرکی تی یش جکھاہے اس می میرے لیے پرکگت 
دے بیہاں ک٠‏ ککہ میس ا سکی جلد نہ چاہہوں مج سکوتونے مو کے اورا سکی تاج رنہ چاہوں 
ش سکوتونے جلدعطافرمایاے-) 
اظر بڑکاعلان: 
کر کت اونظر رلک جا ےتوب دھاپڑ کرد مککرے : 
ايك الله أَذْهِبْ حَرها تھا وَوَصَبَھا۔''' 
(ت جم :اے الات رے نام سے شمروئ ءا کی ہیی سردگی اور نیف دو غرا-) 
٭ ناب بندہونے اور اھ ری کاعلاع: 
ری کا پاب بند ہو جا پا مان میں پھر یی شکابت ہہ وکو بے وعا پڑ ھکردم 
کرے٭ ان شاءالڈدححت یاب ہوجا گا: ۱ 
وا اللہ ایی الکاو تتتی اکناقت مك یی انتا 


٠ 


ْ 6-2 007 ا ا و ا ۰ ای رح کی وھ ےک مو و ا 5 0 7 کے پت 
وَالأزضض؛ گكُمَا رَشَكَ فی السُمَاء؛ فَاجْعَل رََتَكَ فی الارضِ؛ واغفز لکا 


ووےے ا کو کا ج--- ‫ و ؟ جج ٠‏ پش 1 ٥‏ 
خُوْبَنَا وَعَطَایَاتاء أَنْتَ رب الطيْبيْنَ؛ فَانْررل شِفَاءَ مِنْ غِفَائِكَ رَرَحَة مِن 


1 


ہرھ۔ ہے ے> ےک رئہەه (۳) 


()اخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة + ص:۱۲۸١‏ باب مایقول اذا عسرت 
(رواہ النسائی وابن ماجة وا حاکم والطبرانی عن عامر بن ربیعە؛ حصن حصین؛ 
ص: ۱۷۰۔. 

(۳)رواہ النسائی وأبوداؤد وا حاکم عن أبی لدرداء؛ حصن حصین ؛ص: ۱۷۳ء 


تو ياابصار رے) 


(ترجمہ: اے ہجمارے پور دگار اید ! جوآسانوں میس (متبود سے ہت انام باک سے 
تی اعم زین و آسمان میں (نافظ) ہے ۰ جس رح ترک رح تآسمان ٹس ہے ای رح ایق 
ز زان فمنان من سی رن ہے توٹنے بڑ ےنا ہکوپننش دے تو پاکیتزہ لوگوں کارب 
ےتوس نیف رای شفااور رحت نازل فریا-) 

٭* نچ و کےکانے ہو ےکاعلان: 

سکوپچھونے ڈتک ماردیاہو+سسات ھ مہہ سور فا تہ پڑ ھک راس پیرد مکیاجائے- 

حدیف شحریف میں ےک ایک ھریتیہ حالت نماز میں بیاالر پیا کو ون میاٹ 
ایاج بآپ نمازے فارٔ ہو کے توف مایا ” کچھو پر اولدگی لحصنت ہوہ می نہ نمازئگکوگچھوڑتا سے نہ 
خیب نماز یکو پیر آپ نے پانی منگوابااورنمک منگوایااوراسے ڈسی ہوکی کہ پر لے جاتے اور سور٤‏ 
”فُل نا اتا الْكَافزوت؛ فُل أَعْوذ رب الْفَلَي؛ قُل أَعَوذُ يرٹ الایں۔ پڑعت 
27 

رت ععبدادڈ بن زیر ڈنل فرماتے ہی ںکہ جم نے حضور بل ٹین کے سا نے ہکم 
وخیبرہ ک ےکا ےکادرج ذیل متخ بین لکیا(اوراجازت اہ یتو حور ب ٹن نے فرماباکہ می جنول 
کے عہعددہپکاان سے سے ۔وو مضعت ری سے : 


جو ونٹزۃرس. 


:2 لٰ > ےپ ,>2 ُ2 
پشم الله شُجة فَرَیِیة مِلحَة بح رققطا. 


8 


(0 


باب مایدفع به الام . 

(١)رواہ‏ الترمذی عن أبی سعید ا لخدری رضی الله عنہ+ حصن حصین؛ ص: ۱۷۲ء 
باب رقیة لدغ العقرب وغیرہ. 

(۲)رواہ الطبرانی فی الصغیر عن علىی رضی الله عنه؛ حصن حصین؛ ص: ۱۷۲ ء 
باب رقیة لدغ العقرب وغیرہ. 

(۳)رواہ الطبرانی فی الاأوسط عن عبد الله بن زید رضی اللہ عنه٥؛‏ حصن حصین؛ 
ص: ۱۷۳ باب رقیة لدغ العقرب وغیر. 


تو ياابصار (۲ے) 


٠‏ وک دعا: 
سکو سم ںی ھی درد وہ اپثادلیال اھ دردوالی عیلمہ پر ر کے اور جن مت 
شر اڈ“ کے 2 


رات مرجیہی کے: 

ا بِِزَة الله وَقُذْرَيْ مِنْ شَُرّمَا أَجِدُ ما کَ 

بے س7سدت یاخا ول 
اور س کا کے خوفے۔) 

٠‏ بخاراور دم امرائ سے عبات پان کی دعا: 

ج بکوئ یٹ بای مل وتوی دعاپڑھے: 
اسم اللہ اللگییْر؛ أَغوْدْباللہ العظیٔم مِنْ شَرَكل عِرقِ تَعَار؛ وَمِنْ شَرَحَرٌ 
8 

( جم :بڑائی وانے داکے نام سے ہ ٹیس ہرجو ضس مار نے وی رگ کے راو رن ککی 
گ کی کے ششرسے خمداۓ بزر ککاپناہ چاہتاہوں-) 

٠‏ باری سے شجات پان کی دعا: 


لد پدانادیاں 227 ۰( بڑے : 


(١)رواہ‏ مسلم عن عثان بن ابی العاص؛ مشکاة المصابیح؛ ج: ١١٤‏ ص:١‏ ۱۳ء باب 
عائۃاا سی کرات اض 

(رواہ الترمذی نی سننه عن ابن عباس ؛ مشکاة امصابیح؛ ج: ۱ ص: ١۱۳ء‏ 
اب غاد ارس ماف لا 


تو الابصار (ے) 
يِفَاءَلَا يُعَايِرُمَقَتًا۔*” 

)ۓل کے رب !لیف دو رکردے اور شفاو مقر رستی عطاف وی شفاعطا 
فان والاے ؛ ای شفادے شس کے بح ہکوٹی بھاری ندرے-) 

٠‏ پچھوڑے اور مکی دعا: 

گر یکوپچموڈایازنم وتواپتی النگی پر اعاب کک می پر ر کے پچھ راس نا کآلود انگ یکو 


( جم :ال کے نام ے) ہمارگی زی نکی مئی سے جو جمارے مین افراد کے حھھوک 
سے گی ہوگی ہے مہ ارے رب ک حم سے پیا رکوشنغا لے ۔ 

8" ننانوے بجار و ںکاعلان: 

لاعزل ولا فُوَةَ الا پالو ''' 

(ت جم ہبگناہوں سے نے اور رن ےکی قوت الیک توف سے ہے۔) 

بہنانڈے یا و ںکی دواے مجن یس سے ادلی ار یٹم ے_ 

٠‏ برز پا لیے جا تکاوظہ: 

ألتیزاللہ 
(١)رواہ‏ البمخاری ومسلم کت عائشۃة رضی اللہ عنھا؛ مشکاة الصابیح؛ ج: ۱١‏ ص٠:‏ 
٤ء‏ باب عیادة امریعض وثواب املرض. 
(٢)رواہ‏ البمخاری ومسلم عنں عائشة رضی اللہ عنھا؛ مشکاة الصابیح؛ ج: ۱ ص٠:‏ 
٤ء‏ باب عیادة امریعض وثواب املرض. 


(۳)رواء الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنه؛ والطبرانی عن ابن عمر رضی الە عنه؛ 


تو ياابصار (مءے) 


(ترجمہ :یس ال کی شش طل بک رتا ہوں-) 

رون بر ا ٹر رس رارے روز اک وت ور 
میں نے ر سول الد یا سے اباقیافز با نکی کک شا ی تک یتپ نے فرمایا: لوا ستخڈارے 
کیوں فافل سے ؟؟ یں دن میں سوم ریہ استتغفارکرجاہوں _'' 

* کان ہے کے وف کی دعا: 

ج ب کسی آدٹیکاکان جےتودہ تضورکرم لان پردرودشری ف کیچ اور یی کے : 

ڈگراللہ جَيْمَنْ دگرن۔'' 

( جم :الہ تالی اا ‏ تخ کوک رت کر ےجس نے میراؤکر(خیر) گیاد) 

٭ ج بکیاصاحب اققطرا رکا خوف ولوب دعاپڑ: 

الہ إِلا الله ال الکزت عق ال کت الات الكَم وت 
عرش الْعَظیم؛ لاَإلَه للا انت عَوِمَارِكَ وَجَلَ تنَا ول إِله عَي٥ِكَ_'''‏ 

(ترجمہ: اد کے سواکوئی معبو و نہیں جوعلم وبزرگی والالے؛ ان اش ذات ھ 
ساتوں آسمان اور عرش شی مک پروردگار سے ١‏ تیرے سواکوئی معبو نہیں ہ تی ری بنا ہکم سے 
تی تھریف پاففممت سے ۱ اور تیرے سواکوئی معبودنہیں-) 

"٭ مصبببت کے ختطرے کے وف تکمیا یڑ ھاجا ے : 

ج بکوئ ین مصیبت ‏ ای ہولنا ککام می متا ہونے ان ایق کرے پائسی بڑے 
کام میں مبلا ہو جا ےلوہ پڑھ: 


()آآخرجہ این ماجہ فی سننہ وابن السنی فی عمل الیوم واللیلة؛ الأذکار للنووی؛ 
ص ٣٢۲۷ء‏ باب مایقول من کان فی لسانه فحش. 

(۲)آخرجه ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة؛ ص: ١٦٢‏ باب مایقول اذا اطثّت أُذن. 
(۳)آآخرجہ ابن السنی فی عمل الیوم واللیلة؛ ص: ١۱۲١‏ باب مایقول اذا خاف سلطاناً۔ 


تو ياابصار (ھءے) 


ارت کت را 

(ترجمہ :اللہ بجی ںکائی ے اور دہ میتی نیکار سماز سے ١‏ تم نے الڈ دی پ رھ روس ہکیا-) 
لس یکاخوف ہوویہ دعاپڑھے: 

لم نَا تَْعلْكَ نی حُوْرِمم وَتَعْیذ بِكَ مِن شُزؤرئ_” 

( تمہ :اے اود انیم کے ان کے متقائ لکرتے مہیں اوران کشر سے تر رکا اہ لیت ہیں-) 


رر 7 مد کر ےکاوظین: 


للع ِن عَبْتكَ ون عَبيكَ: وَاہْنْ غ أَميْكَ؛ وَف قَبْصَيِكَ؛ تَاصِیّتی بِيَيك 
مَاضٍی ق حُكُنُكَ عَذل و قّ فَضَاءكَ أُمْلَكَ بل اسم مٍ هُوَلَكَه سَمَيْتَ یہ 
تَفْسَلَ؛ و اه نی كِتَابِكَ٠‏ ا عَلَْتَُ ۵ ۹۰۹ظ+8"0ھئ عِبَادَكَ 
أَِاسْعأَثزتَ پہ فی کن الَْیْبِ عِنْتك ان كَْعَلَ الْمرآنَ رَبیع قَلٰی؛ مَجلَاء 
مت وعَتج۔'' 

(ترجحمہ: اے الد اشیش تبرابندہ ہوںل اور تیرے بنرے اور بندگ یکا بنا اور تیرے ٹیٹے 
یش ہہوں ہمیرک بای تیرے دست قدرت مس ہے میرے حم میس تی اعم مارک سے اور 
میرے پارے میں تب افیصملہ س اپا اتصاف سہے ١‏ میس تبرے ہراس نام کے وسے سے مھ سے 
سوا کرجا ہہوں جس ےون ایق ذا تکوموسو حمکیا* یا ای قکتاب میں اہنارایا ا یی وق میں 


()رواہ الترمڈذی عن آأبی سعید الخدری وابن أبی شیبة عن ابن عباس رضي الله 
فا تھے سض 11۷2ء اب عاتالاعنة آعیك ١‏ 
(۲) رواہ أُمد وأبوداؤد عن أبی مومیٰ رضی الله عنه؛ مشکاة المصابیح. ج: ١٦ص‏ 
٥ء‏ باب الدعوات ف الأوقات. 

(٣)رواہ‏ رزین عن ابن مسعود رضی الله عنه٠‏ مشکاة الصابیح؛ ج: ١ء‏ ص: ٢١۲٢ء‏ 
باب الدعوات ف الأوقات. 


تو اابصار رہے) 


ےکس یکو کھایاہ یا اپنے پا پدد خیب ٹیل شید رکھاک ہت وقرآ نکو میرے د لک بہار اور 
بیرے رن مکاعلا نع ہنادے-) 

*٭ ج بکو ٹیگ میں چل جا ۓلوکیاکرے ؟ 

جبکوئ یک میں بل جا ۓےتوی دعا پڈ ھک ران پددمکرں: 

اَذْهب اَبَأَسَ رَبٌ الگایں؛ اف انت المّانی لا تَا إِلاَاَنْتَ 

ےت وہی شفاد ۓ 
والااے ترے سواکوکی شفاد یۓ والا نہیں_) 

۳ھ 2 

ج بکہی ںآ کلک جا ۓےآو' آ شیک" س3 ہاور نے 

لەک شد:چزیانے کے لے دعا: 

ج بکوئی یزخاب ہوججاے الام ء جاور خیبرد پگ جا ۓےتوی دعاپڑھ : 

الََ اد الضَالٍَّ ؛ وَعَاِي الصَّلالَِ ؛أَنَْ تَهُدِي مِنّ الضَلالَة ؛ أْْذ عَل 
ضَالَّيٌمْذْرَيِكَ وَمْلَطَايكَ؛ قَإِنّهَا مِنْ عَطاوك وَنَضْلِكَ۔''” 

(تقواتے ال کم شدہکوواں لانے والے ہگمراوکوہدایت دینے وانے !نود یگمراہی 
سے ہدایت دیچاے ‏ مبرییاکم شدہ پچ رکوا تق قدرت دقوت سے والیل لوٹاد ےکی ںکہ بہت ری 


7 


()رواہ النسائی وامد عن حمد بن حاطب؛ حصن حصین؛ ص: ۱۷۳ بیان الرق 
للمحروق. 

(۲)رواہ ابو یعلیلٰ عن آبی ھریرة ٭وابن السی عن ابن عمر؛ حصن حصین ؛ص: 
۳ء اوغا اطقاء آغر وی 

( رواہ الطبرانی عن ابن عمر رضی اللہ عنھم|؛ حصن حصین؛ص: ۱۷۰ء باب 
مایقال إذا ضاع شیء. 


تو ياابصار (ےے) 


بینتخل وعطاے ے۔) 
٭ پنرد چزد ہے دعاپڑے: 
”ند یل اي بیمْتۃ تَيمُ الصالحاتُ 7 ے٢‏ 
( ترجہ :تھا تھرلئیں ار کے لج سکی للصت سے اجیھے کا موںکیکئیل ہوئی ے-_) 
٭ ری چچز دی کر دھاپڑ ھ : 
ماس ر0 2 لہ عَى کل حَال“۔ رق 
( جم :ہرعال میس انل کی تجریفے۔) 
* کم شمدہیامضرودکی بازیال کی دعا: 
ج بکوئی چک ہوجاے یلام *عانور و خیرہ اک جا ۓےتوی دھاپڑ ھ : 
ص2 راد الطَالَةَ؛ ٤‏ َهادِمي الضَلالَة “ 7 تَھدٍي مِنَ الک اد أْدْدْ 
عَلٌ صَالَّیْ بفْذريب وَملطازِك: قَإِنَمَا ِن عَطَايِكَ وَفَضْلكَ>_'' 
(ترمہ ے. ک۹ ئص 7و" 
سلڑھی راوکی طرف لانا سے > میرک یکم شحدہ یکو اتی قدرت وطاقت سے وائی لو ٹارے کیوں 
سک بت رای عطاادرشل سے ے۔) 
2 پک یآواز تن ےلوکیا پٹ سے ؟ 
جب مرک یآواز نت ےتوب دھاپڑھے: 
()7”حصن حصین“ باب إذا رأی مایحب. ص: .۱٦١‏ 


(۲)”حصن حصین“ باب إذارأی مایکرہ. ص: .۱٦١‏ 
(۳)”حصن حصین“ باب إذا ضاع شیء. ص: ۱۷۰. 


تو الابصار (۸ءے) 


(تجمہ:اے الل میس تھے تنماحضل ماگتا ہوں۔) 
٠‏ کے کے بھوکے کے وفقق کیا پڑ سے ؟ 
ج بکوں کے بپھو کن ےک یآواز س ےکوی کے : 
”اشن اللہ رق القیطان از“ 

(ترجم :یی مردودشحیطا نے اللدکی پناہلبتاہوں-) 

٭ ماں کے وق تکی دعا: 

جب :یوک سے جما غکرے اکا فلام خ بھ ےتوا کی پیٹای برک ری دعاپڑ ھ : 

لعل أْألَكَ مِنْ خَيْرِهَا وَکَیْر مَا جَبَلَتهَا عَلَيه؛ رَأَحَيْد بِكَ مِنْ رما 
وَشَرّمَا جَبَلَكيَا عَلَيْ'* 

( جم :ال ٹیش مھ سے ال کی بھعلاگی اور اس ےکی بچھلاگ یکا سوا لک رجا ہوں جس پ رتو 
نے اسے پیر اکیا اود ا کی برای اددائس چچہزکی برائی سے تی پناد اتا ہہوں کس پ رکون سے 
پیاگیا_) 

7 ٠ 

لم صَل عَل محُمّد عَبٔي وَرَموِكَ ٭ وَعَل اي وَلُْوْينَاتِ ؛ 
7 
()”حصن حصین“ باب مایقول عند صیاح الدیكکة؛ ص: .۱٦١‏ 
(۲)”حصن حصین“ باب مایقول عند نھیق الحار وبناح الکلب؛ ص: .٦٦١‏ 
(۳)”حصن حصیں“ باب مایقول عند إرادة الماعء ص:١٢٣.‏ 


(٣)رواہ‏ أبو یعللٰ عن أبئی سعید اسلخدری رضی اللہ عنںہ؛ حصن حصین؛ ص٠:‏ ء۲ 
باب دعاء نباء امال۔ 


تو اابصار (وے) 

( چم : اےالللد! اپنے (خائش) بنرے اور رسول مبلا اور خمام موسنین و 
مومنات اورمسلمون ومسلمات پپراقی رحمت نازل فریا-) 

٥ک‏ زشنمنصب پرعحال ہو نکی دعا: 

ج بکوئی مت انی ر ہے پاسی منصب سے مو لکردیاجاے اور چا ےکہ دو نقت و 
منصب یا ااں کا مبترین برل جلد جی مل جائۓےتویہ دعا ات ٹن ؛ جلتے پچھرتے پڑعتارے اور 
ا ںکاشش اپنے دا بازہپہ بانھے یا گے یس لڑکاۓ ہ انشاء الد وہ نت وظمت والپں مل 
جا گی: 


یئ 7 2 2۸ او اکھد سڑوہےہ ےر وإ ومسپ 
رْنْاِلهَنا انفسناو ان لم تغفر 82۵0) لن مِنك| لین ۔- 


(الأغعراف؛ آیت ٢۲۔)‏ 
7ے ےتپ ا۲ے ےپ )رش رکیا او راگ رتوہھییں نہ ین او ہم پر 
رت نکر ےت وم ضرور نقصاان والوں ٹیل سے ہہوں گے _) 
جب نز بب ری ےکار ہو چان سکو ىہ دھاپڑ ھ : 
جب لف یکاستار ہک روش میں ہواو رکوٹی نز کا ر_ خحابت شہ ہہور بی ہہ وکونماز کان کے 
بعد ہہ دع بگڑیں مرتبہ پڑھ ایاکرے ١‏ ان ششاءالل تی حجالیشس ون شش ال سکی نجیر تقذیرے 
مآ پک ہوجائی ںگ: ۱ 
َالقَسْسّ وَالكمر وَالمُجوع مُمَکَراتِ بأدرہ الا لہ ال وَلْأْز بر2 
۳ئ 9ھ 
(تچجمہ: ایی نے جچاند سور اور تنارے بنائۓ سب ای کےسعم کے پابفلد ہیں سن لو 
پیداکرنااو رگم درا سب ای کے دست قدرت میں ے ء باہرکت سے الد جوسمارے جچہائو کا 
پانہارے۔) 
٭" جب مت ویر مین اناریۓ 
جب مب تکوقب میں رکھی ںتوپڑتھیں: 


تن الالصار )(۸۰۸) 

ام ال وک مل رسُولِ انی 

(ا کے نام سے اور سول اید کے دین پد(فرمیل رکتاہوں )۔ 

جن نے کے بعد مٹی دی جاۓ ء م تب یہ ہےکمہ س بان کی طرف دونوں پاتھوں 
سے تین با رمٹی ڈلوس کی با ہیں ”نبا لاگ “ل(اسی سے ہم ن ےت مکو پ کیا دوسری 
ارکیں ” وفیا یی گن“ (اسی میں ت مکولوٹائیں سے ) اور تیسری مرج ہکہیں ”و یا 
نگ تار أخیٰ“ ( اوراسی سے تمکودوبارہ ہیں گے) _'' 

٭* جب تبرستان جا ۓ لوکیا کے ؟ 

جب برستان جا ےو کے: 

الام عَل اه اليَارِ''' 

(تیمہ:جروالول پرسلام۔)_ 

پا - اَلسَلَامْ عَلَیْخمْ اَل الديَار من الَمُذمينَ وَالْنْسلِمبَ ؛ ون 
ِنْ قَاء ال بخُم لَاحِفُونَ ؛ فَسْأل اللہ لتا وَلَخُ الْعَافِیَة أَنثُمْ لتا فرظ رَكُنْ 
لئ 

0ھ تم پر سلامتی ہو اے قر کے مومنو اور مسلمافواانشاء ایڈد بھم بھی تم سے لن 
والے ہیں ہم اد سے اپنے او رتجھوارے لیے عافیت کے طالب یں تم ہمارے بی رو ہواور 
جم خھارے تیچ هآنے وانے ہہیں۔) 


(ا)”تنویر الأبصار“و ”ردالمحتار“ کتاب الصلاةۃ؛ باب صلاة ال جنازة؛ مطلب فی دفن 
الیت٤‏ ج: ۳ ص: ٣١۱٦١‏ دارالمعرفة بیروت٤‏ ١٤٢۱ھ‏ 

(۳)”ا حوھرة الئیرة“ کتاب الصلاة؛ باب ال جنائر؛ ص:١١٤۱١‏ باب الدینة؛ کراچی۔ 
(۳)رواہ مسلم والنسائی وابن ماجەه عنں بریدة بن ال حصین؛ حصن حصین٤؛‏ ص٠:‏ 
٥ء‏ باب مایقال عند الزیارة. 


تو ياابصار (ص۸() 


"" جب خص ہآ ےلوہ پڑھے: 

أَعُيْد بالله مِنَ الشَیطانِ الرَّجیٔم 

(رم: کا تح ا تا 

عدیت شریف یل ےکم یہ پڑ ھن سے ا لکاخ صتخم ہوجات ےگا 

* دعاے سر 

جب یٹس سفرکارا دوکر ےتوب دھا پڑھ : 

للٰهٌ بِكَ أُسُرْل وَبكَ و جن 

(ڑعیدانے اشامن 20 ھ۸( 
کر ےکا )یل کر تاہہوں اور تر ہی مددے سفرک رتا ہوں_) 

٠‏ جب سوار ہولو دماپڑھ: 


(0 


ج بگاڑی یش .0 الله و 

ج بکگاڑکی یس یھ جا ےکو یہ دعا ار و 

انس تلاح ری کت اتا کنا مک نال کا 
کو 0ے 


(ترججمہ : تھا مترلییں الد بی کے لیے ہیں * جاک ہے وہ ذات شس نے اسے جمارے 
قابومس دیاج بک بم خودسے اسے ابویٹس نہیں نے کے تے اور بیےنک جنہیں اپنے رب ب یک 
طرف‌لوٹاے۔) 
(١)رواہ‏ البمخاری ومسلم وأبوداؤد والنسائی عن سلیمان بن صرد؛ حصن حصین)؛ 
ص: ۷١٦۱ء‏ باب مایقال عند الغضب۔ 
(۲)رواہ الہزار وأحمد عن على رضی اللہ عنه؛ حصن حصین؛ ص: ۳٢۱۲ء‏ باب 
مایقول إذا راد سفرا۔ 


تو اڑالصار )م۸۲( 


پل رن بار ” ات لو * “ جن پار” الله ائکڑ “اور ایک بار” لا ِلَة لا اللة “ 
پڑ من کے بعد ایک باریدا پڑے:” مُفلتك ظَلبْث تَفی فَاغْفْر یء ان 
الوب ال اڈ ی “_' 
( چم پاک سے تر ذات؛ ےیک میں نے خودپ نل مکیا ء*تو یھ جن دے ہ؛کیوں 
کہ صر فکویکناہو ںکو نا ے-) 
ن0 بھری سی دعا: 
ج بکوئ ینس دریا میں سخ رکے ۵(  -‏ ٌٰ۶۰ٌ۶۹۰۹۰ وھ 


اك رق لَحْغو ر6 ًًِء)ً()۲) 


”ہم اللہ مجّرنھاو مرسٰھا اِن رف لخفور تیم 
عوسا جا سسفتت ے۔) 
٭ صلاڈااجۃ: 
ج بکوئی حاجت پیٹ لآ ۓآوائپچھی ط رح وضوکرے اور دو رکعت نماز عاجت پپڑ سے ؛ 
رعلام کے بعد دوکرے۔ ‏ 
نَم إِناَسأَلَكَ وَأَتَبَه إِلَْكَ بتَبيّكَ محمد صَل اللٌ عَلَيْهِ وَمَلَمَ تی 


۱ عو تن .شارت الہ مکاح مت و 2۳ 
لمة ہی 3 ال کت جَئ مَذّہ لِثقضیٰ لی الِلهمَ 


رو 


فشقفعة ي۔ 
(قرجمہ:اے الللد ! میس تچھ سے سوا لکرم ہہوں اور یا رحت مھ بٹاڈپن کا وسیلہ لے 
کرت ری طرف متوجہ ہو تا ہوں ء اے مم( ایس اپنی عاجت برآرکی کے لے ےآ پکو 


(١)رواہ‏ أبوداؤد والترمذی والنسائی وابن حبان وأحمد وا لحاکم کَلَھم عن علی کرم الله 
)۲( حصن حصین؛ ص۱۲۷:۱ء دعاء الرکوب فی البحر۔ 


تو ياابصار )(۸۳) 


وسیلہ :ناک لپن ر بک جاب موجہ ہوتا ہوں۔ اے الللد میہرے بارے میں ان( حور کی 
سفارش قول فری_) ۱ 

عنان بین نیف سے مردبی ےک ایک ناش تضوراکرم لا کی با رگا میس حاضر 
ہوااور ع رخ سک اک ہآپ الد تی سے دعافرمادی لک دہ کے صحمت یا بک۷ردے ۔آوآپ نے فرمایا 
اگ رتو چا ےتومیس دعاکردول اور گر چا ےتوب رک قوبہ حبرترے لیے مبتر سے 6 اس ن ےکہاآپ 
دما فرمامں ءآوآپ نے ے عم دیاکہ اٹچھی طرح وضولرےے؛ دو رآحت نماز پڑۓے مو 
بالادھااگے۔اور سن تی یل بھی ےک جب وو کس اھاٹوا سکی بنا ئی دای ںآل تھی _ 

٭ ا ارہ: 

مبھی ایماہوتا ےک عم ےکرنا جات ہیں او رج میس نمی ںآ اک ہکریں یا دکریش ؛ جیب 
مکش او رگ مو یکیفیت ہوثی سے ای وقت می لکیاکرے ؟ 

نخرت جابر بن عبد الہ ڈنف رات ہی ںکہ حضمور ہیں امتتار کی وھ ا 
رح قر نکی سورت سکھاتے تھے فرماتے جب تم ٹیس س ےلوٹ یس یککام ارادوکمر ےتو(طلب 
خی رکے لیے استقارہکرے(اور ا کا ربیقہ یہ ےک دورکحت نما نل پنڑ کی دواکرے : 
عو قَإلّك کفیز ول أڈیژ وَتعْلَم وَل أعلَمَ وَانک عَلگم الهیْوبپ۔ اللَمۃ إِ 
گُنت تَعْلَمْ أقَ مَذَا الأمر حَیَز ِْ نی دییؾ وَمَعَاؤن وَعَاقمَة فی فَقَيِرِه ین وََارِك یَ 
فیث إن کات كَرَأَي َاَوفةُ عق وافیز ‏ القَل عَیث کان ء٤‏ رین رو_ ''' 

ررم: اے الد میں ترے صلم کے ساتھ تچھ سے طلب خی رک رتاہوں اور تی ری 
قدرت ک ےگل تچھ سے طاقت بارتاہوں اد تر ےنض لمکا سوالی ہوں۔ بلاشم وق ررت 
(ا)آآخرجه الترمذی وابن ماجہ؛ الّذکارللنووی ص: ۱٦۷‏ باب أذکار صلاۃ ا حاجة. 
1و الغاری زال دی زالسال خی او واللللان الی تفرت7 1 


تو ياابصار )۸۸( 


والاے اور میس بے قدرت ؛وعلم والا ہے اور میں بے مم ؛تو خیب دای سے > اے الد تیجرے 
لم میں اکر چڑ میرے دن زندگی اور اضحا مکار کے ساسلہ یس پت ےت وت وا سکومیررے لج یے 
مقرد فرمادے اور اس یل مھیرے لیے برکت دے۔ او راگ میہرے لیے ہیا ےت وتوا سے مج 
سےکمیبردے اور چھلاگی میرے لیے مقددفرماچہا بھی ہواد رج ھکوس پر رای رکہ-) 

٠‏ نأ کے بنروں ے بد وطل بفکرنا: 

15 مکی سوار یگ ہوجائے(یا شود ہوجاۓ )اود انی کہ پہ کہ وہا ںکوگی سا ای از 
مددکا رکہیں مو تو را پا نے فرمایا ےکہ ای موقحعہ راس رح سے اید کے بٹرو ںکو 
پارے: 

ا ماد الله أیِيْئُؤی, تا عِبَاد الله أعِنْنُؤْن, نا عِبَاد الو أیئون “ 

(ترجمم: اے الد کے بندواممبریی مد دکروہ اے اڈ کے بفرد امب ریی مد دکرو؛ اے اللد 
کے اھ یرریر) 

صاح ب تصلن ضحبین علا مہ ھ جنزرکی علیہ ال حمتفریاتے می ںکہ میرک جرب ہے۔ 


(۷) رواہ الطبرانی عن زید بن علىی عن عقبة بن عروان عن البی ؤار حصن 
حصین؛ ص: ۱۲۷ باب مایقال عند الاستمداد. 


تو اڑالصار (۸۵) 


و ام نی جانے دای دعائیں 


9 حضرت ابوبکرصدرلنی بل ف رات ہی ںکہ میس نے عرح کی اے الد کے رسول 
لپ اجھے ایک ای چچ زکاعم دی سے مم سکع اور شام پڑھ لیاکرو ںآپ نے فربایاع ؛ شام 
اور تپ اکر کہو 

لََ عَاَِ الو وَالفُهَادۃِ قَاطر السَّلوَاتِ وَالأَرضِں؛ رب گل شی 


7 
لَ 


وَمَلیْگە أَفْهَد ان لا إِلَ للا الک أَعوةً پكَ من َرٌ شی وَين شر القَیْطانِ 
رو کن 

اتآ کملی وی رون کے جا تک وا کے ماع دن یدک کے 
وا لے ہرچچ کے پلتہار اور میک ایم سگوابی دنا ہو ںکہ تیرے سواکوگئی معبود نہیں ؛ میس نے 
سی رذن او ا نکی رات ام ران ك ۶۶2 رک سے ترک ینادمانتاہوں-) 

9 ور ہکن نے نے ارشاد فا کہ جوشص مت یر ىہ دعا تن ریہ پڑ ھکر سو 
رے ءال تال اس کے تما مگزاوبشش د ےگااکرچہ ووگناو ند رکی جھاگ یادادئی عا کی ریت 
یادرختوں کے پتوں یا ادنیاکے دفوں کے پرابرہوں۔ 


أُستفْفز اللہ الَِّي لاَإِله لا هُوَالَْیُ الْقَيْومُ وََُوبُ إِلَْه _ 


(ا)رواہ الترمذی وأبوداؤد والدارمی؛ مشکاة المصابیح؛ ج: ١١‏ ص: ۲۰۹ باب 
مایقول عند الصباح وا مساء والمنام. 

()رواہ الترمذی عن ابی سعید رضی الله عنه ؛ مشکاة الملصابیح؛ ج: ١١‏ ص 
۱ء باب مایقول عند الصباح وا مساء والمنام. 


تو اڑالصار )()۸٦(‏ 


(تڑجہ :یس اس الد سے کننش کا طاکگار ہوں جس کے سواکوگی معبوز خھیں وہ شور 
سے زنروے اوراورو لکو انم رکھے والاے اور یل ا کی پارگاہ ۴ی۲ست وک تاہوں-) 

9 تر ب ان نے فرمایاکہ جو بندہ روزان ہو ام ہے دعا 20ھ 

پشم الله لق لأ يكُر مغ اوہ كقۂ ‏ الَّزض وَلا ‏ الممَاء ء وَمُو المَہيغ 
لعیۂُ* 

(ترجمہ: الد کے نام سے جس کے نا مکی رات سے زمیان وآسما نک یکوی چزنقصان 
نہیں پچیاستی اوردوسنتاء جاناے_) 

09 حضرت زا نف تضور با کی بارکاہ یٹس ایک خادم ما گن کے نل ےنیس تو 
آپ نے فرما ماک ہکیا می یں دہ چیزنہ بتادوں جوخاوم سے کہجمرے ١‏ ہرنماز کے وقت اور سونے 
سے وقت میں پر ” مشنحان الو“ ننس بار ” انل لو “اور چوس بر ”ة 
أئ پک کن کی 

تضور بلاان نے فرمایا جو ون میں سو مت مان اللد وَ کمن “پڑے 
گا؛ اس کےگناد مادے جائجیس کے اگرچہ ندرک بھاگ کے پرایرہوں_ ٣‏ 


()رواہ الترمذی وابن ماجه وابوداؤد عن ابان بن عثمان رضی اللہ عنه ؛ مشکاة 
امصابیح؛ ج: ١‏ ص: ۲۰۹ء باب مایقول عند الصباح وا مساء وا منام. 

(رواہ مسلم عن ابی ھریرة رضی اللہ عنه؛ مشکاة اللصابیح؛ ج: ١١‏ ص: ٣۲٠۹‏ 
باب مایقول عند الصباح وا لمساء وا تام 

(۳)رواہ البخاری ومسلم عن ابی ھریرة رضی الله عنه٠‏ مشکاة الصابیح؛ ھ2 
ص: ٤٣٠٢‏ باب ثواب التسبح والتحمید والتھلیل والتکبیر۔ 


تو ياابصار (ےہ۸) 
دن ددنیایٹش سر روٹی کے 0 ء7 


0 هو رَبِنا آَتا ث الأُنيا حََنَكٌء ٥ي‏ ال٦َخْرَۃٍ‏ حََنَةٌء دَوِتا عَدَابَ 


(ترجہ: اے الٹر! (کارے رب ! ہیی دشا وآخخرت میں بھلا ی عطا فریاء او ر نم کے 


عذاب سے ہا۔) 


یں 
3 


٥‏ لق لن أغرڈ بك بن الققاقِ والققاق وَمزہ الأَخْلَاق_ 

اعت آ الا لد نکی ) عخالفت ہ منافشت اور برے اغخلاقی سے تبری بناہ 
0 رر 
غُوْذ بكَ مِنْ عِلم لا يَنقُمْ ؛ وَعَمَلِ لا بُرْفَع ؛ وَقَلٍ لا 


رم : اے الد ایس غی رمشی ٥لم‏ ےہ نا مقبو لعل ےہ ےت ات ان یت 
اورن کیا جانے وا ی بات سے ترک یناہ چابتاہوں-) 

٥‏ لع مُصَرّف الفلُرْبِ صَرّف قُلْوْتََا عَلى طَاعَيكَ۔ 

(حتۃ آے ال ذاؤ ںکو نے وانے اجھارے دلو نکوا یق فریان بدا رق طرف 
گچیررے۔) 


و ٤ے‏ ٤و‏ 


ه یع لَنأك الیدی وَالمَتَا 
( ترجہ : اے الد اٹٹش تھے ہدایت اور خابت قآاگیکاسوا لک رتاہوں_) 


007ب بیان الع الف اتصوری“ نے فا کک ےلاک ین 


تو ا(ابصار )۸۸( 

* الع أمألك الهُدی والفُتی وَالْعَتَافَ وَالْيتی۔ 

(ررم: اے الد یل مھ سے جدایت ٤‏ یرہ زیکارگی ؛ پاک داصنی اور لے نیا زک یکا سوال 
گرتاہوں_) 

اَم اغنرن رارعن تتابن رَاززلْی زاین 

رم اے الد !جج ہل دے مھ پ فرا: گے موا فکررے؛ گے رزق 
عطاکر اور مھ پدابیت فریاك) 

ھ لنْهُمَأعِنًا عل ذِکْرد وِتْکُرد وحُسٰنِ عِبَادَيِكَ ٠‏ 

(ڑجھہ: اےالر! ائے وک طزو رر گیطات وواق سن 

٥َللعٌ‏ اغزیِ وَاكٰی 9۲ "* 

(ڑجھہ: اے الر! ےکن دے ‏ مھ پر رت فرمااور بے جنت میس داشل فرا۔) 

8 لع رجعلٰ مزا جعلی مکنا واجْعلی ن عَین صَبلأًز 
خ اأَعَين القایی ناد 

( جم : اے الد !یھ خوب صرکرنے والاء و تشگ رکرنے والاہنا اور جھے میرک لاہ 
میس کچھ وٹااورلوگو کی گاہ بی بڑاکروے-) 


ر٤‎